Al-Risala · December 2000 · page 41

روزہ اور دعا

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۱

خدا اپنے بندوں سے قریب ہے، ہر چیز سے زیادہ قریب۔ خدا اپنے بندے سے اتنا زیادہ قریب ہے کہ وہ ان کی پکار کو سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ قرآن میں خدا کا یہ تعارف کسی بندے کے لئے بے حد سکون بخش ہے کہ وہ اپنے رب کو براہ راست پکار سکتا ہے، وہ اپنے رب سے براہ راست اپنا مدعا بیان کر سکتا ہے۔ خدا بلا شبہ اپنے بندوں کے قریب ہے۔ مگر یہ قربت کسی بندے کے لئے ذاتی واقعہ اسی وقت بنتی ہے جبکہ اس پر بندگی کے حقیقی تجربات گزریں۔ جب اس پر احتیاج کی حالت طاری ہو۔ روزہ آدمی کو اسی موافق دعا تجربہ سے گزارتا ہے۔ وہ قربت خداوندی کی کیفیات پیدا کر کے آدمی کو سچا دعا گو بناتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دعا احساس بندگی کے تحت نکلنے والے الفاظ کا نام ہے، اور روزہ اسی احساس بندگی کو پیدا کرنے کی سالانہ تربیت۔ پانی کو نعمت کے طور پر محسوس کرنا اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ آدمی کو پیاس لگے اور ٹھنڈا پانی اس کی رگوں کو تر کر دے۔ جس آدمی پر پیاس کا تجربہ نہ گزرے وہ پانی کی نعمت کا احساس بھی نہیں کر سکتا۔ روزہ آدمی کے اندر پیاس پیدا کرتا ہے تاکہ جب وہ پانی پئے تو وہ پانی کی نعمت پر سچا شکر ادا کر سکے۔ روزہ آدمی کو احتیاج کی حالت کا احساس دلاتا ہے، تاکہ جب اس کی احتیاج پوری ہو تو وہ بھر پور کیفیات کے ساتھ کہہ سکے کہ خداایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے میری ضرورتوں کی تکمیل کا اتنا اعلیٰ انتظام فرمایا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues

Printed page