روزہ اور دعا
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۰
روزہ اور دعا
قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں رمضان کے روزہ کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ عین اسی کے درمیان دعا کی آیت ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ : اور جب میرے بندے تم سے میری بات پوچھیں تو میں بالکل قریب ہوں۔ پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں ۔ امید ہے کہ وہ ہدایت پائیں گے (البقرہ ۱۸۶)
یہ ترتیب بتاتی ہے کہ روزہ اور دعا کے درمیان خاص تعلق ہے۔ روزہ دار انسان عین اسی وقت ایک دعا گو انسان ہوتا ہے۔ روزہ دعا کے ساتھ خصوصی مناسبت رکھتا ہے۔
دعا کیا ہے۔ دعا تڑپتے ہوئے دل کی پکار ہے۔ وہ نفسیاتی سوز کا ایک لفظی اظہار ہے۔ روزہ یہی تڑپ اور یہی سوز و گداز پیدا کرتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر اخبات کی وہ کیفیت پیدا کرتا ہے جس سے آدمی کے اندر سچی دعا ابٹنے لگے۔
شام کو روزہ کی تکمیل کے وقت جب آدمی یہ کہتا ہے کہ خدا یا ، میں نے تیرے حکم سے روزہ رکھا ، اور تیرے حکم سے میں نے افطار کیا ، تو یہ صرف کچھ الفاظ نہیں ہوتے ۔ یہ دراصل ایک روحانی تجربہ ہوتا ہے جو لفظوں میں ڈھل جاتا ہے۔ اسی طرح مہینہ بھر روزہ آدمی کے اندر عجز و گداز کی کیفیات پیدا کرتا ہے اور اس کے تحت آدمی بار بار خصوصی دعاؤں کا تجربہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ روزہ کا مہینہ پورا ہو جاتا ہے ، اس وقت خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ خدا یا ، تو میرے بقیہ تمام مہینوں کو روزہ کے اس مبارک مہینہ کے تابع کر دے ۔ خدا یا ، میں نے تیرے حکم کی تعمیل کردی ، اب تو بھی میری دعاؤں کو قبول کرلے۔
روزہ گویا دعا کی تیاری ہے ۔ روزہ آدمی کو چارج کرتا ہے تاکہ وہ حقیقی طور پر دعا کے قابل ہو سکے۔ وہ مطلوب کیفیات کے ساتھ خدا کو پکارنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues