روزہ کی حقیقت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۶
روزہ کی حقیقت
مسند احمد اور الترمذی میں یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے یہ پیشکش کی کہ وہ میرے لئے مکہ کی وادی کو سونا بنا دے۔ میں نے کہا کہ نہیں اے میرے رب، بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور ایک دن بھوکار ہوں۔ پس جب میں بھوکار ہوں تو میں تجھ سے تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں اور جب میں شکم سیر ہوں تو میں تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں (عرض على ربي ليجعل لى بطحاء مكة ذهباً، فقلت : لا يا رب! ولكن أشبع يوماً و اجوع يوماً، فاذا جعت تضرعت اليك و ذكرتك، وإذا شبعتُ حمدتك وشكرتك مشكاة المصابيح ۴۳۳/۳ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ احوال کے بغیر کیفیات پیدا نہیں ہوتیں۔ بھوک آدمی کے اندر عجز کی کیفیت ابھارتی ہے اور اس کو خدا کی یاد کرنے والا بناتی ہے۔ اس کے بعد جب آدمی کو سیری حاصل ہوتی ہے تو وہ اس کے اندر شکر کے جذبات کو بیدار کرتی ہے اور اس کو حمد خداوندی میں مشغول کر دیتی ہے۔
یہی روزہ کا اصل مقصد ہے۔ روزہ ایک سالانہ تربیتی کورس ہے جس کے ذریعہ آدمی کے اوپر بھوک کے احوال پیدا کئے جاتے ہیں، تاکہ اس کے اندر عجز اور تضرع اور انابت کی کیفیات ابھریں، وہ اللہ کو یاد کرنے والا بن جائے۔
روزہ میں دن کے وقت آدمی کو بھوک کا تجربہ کرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد رات کو اسے اس تجربہ سے گزارا جاتا ہے کہ وہ شکم سیر ہو کر کھائے اور پیئے، تاکہ اس کے اندر شکر کے جذبات بیدار ہوں اور اس کا سینہ حمد خداوندی سے معمور ہو جائے۔
تضرع اور شکر دو انتہائی مطلوب دینی کیفیات ہیں۔ رمضان کے روزے کا مقصد یہ ہے کہ دن کی بھوک اور رات کی شکم سیری کے ذریعہ یہ دونوں مطلوب کیفیات آدمی کے اندر پیدا کی جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues