Al-Risala · December 2000 · page 47

علامتی روزہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۷

علامتی روزہ

رمضان کے مہینے کا روزہ ایک اعتبار سے علامتی روزہ ہے۔ قرآن (البقرہ ۱۸۵) کے لفظوں میں وہ صوم یسر ہے نہ کہ صوم عسر۔ رمضان کے مہینے میں جو روزہ رکھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ۳۰ دنوں تک کے لیے دن کے اوقات میں جسم کو کھانے اور پینے سے روک دیا جاتا ہے۔ کھانا اور پانی انسان کی ایک ضرورت ہے۔ اسی طرح انسان کی اور بھی ان گنت ضرورتیں ہیں، محدود مدت کے لیے صرف ایک ضرورت پر پابندی عائد کرنا گویا صوم یسر ہے۔ اسی طرح اگر تمام ضرورتوں پر پابندی لگا دی جائے تو وہ صوم عسر کے ہم معنی ہوگا۔ مگر انسان اپنے عجز کی بنا پر صوم عسر کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو صوم یسر کا حکم دیا۔ تاکہ وہ اپنی ایک ضرورت کے بارہ میں محدود پابندی کا تجربہ کر کے اپنے اندر اس احساس کو جگائے کہ رب العالمین اگر اسی طرح تمام ضرورتوں پر پابندی عائد کر دے تو اس کا انجام کیا ہوگا۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ آدمی کے اندر زیادہ سے زیادہ شکر کا جذبہ پیدا ہو۔

اب صوم عسر کا تصور کیجیے___ انسان کا نظام ہضم (میٹابولزم) اگر کام کرنے سے رک جائے۔ دل اگر خون کے دوران کو جاری نہ کرے ۔ دماغ کا کمپیوٹر اگر اپنا کام بند کر دے۔ طبیعت مدبرہ بدن اگر اپنے عمل کو روک دے تو یہ سب صوم عسر ہوگا۔ اسی طرح جسم کے باہر سورج اگر روشنی اور حرارت ہماری طرف نہ بھیجے ۔ اگر ہوا آکسیجن کی سپلائی نہ کرے۔ زمین اگر اپنی قوت کشش کو معطل کر دے۔ اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں جو گویا صوم عسر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر وہ پیش آجائیں تو انسان کی پوری زندگی تہ و بالا ہو کر رہ جائے گی ۔

یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ اس نے صوم عسر کا حکم نہ دے کر، ہم کو صرف صوم یسر کا مکلف کیا۔ انسان اگر اس خدائی رحمت کا احساس کر کے اس پر سچا شکر ادا کرے تو اس کو نہ صرف صوم یسر کا اجر ملے گا بلکہ وہ صوم عسر کا عظیم تر ثواب بھی پائے گا۔ اسی لیے حدیث میں یہ بشارت آئی ہے کہ دوسرے تمام اعمال کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک دیا جاتا ہے۔ جبکہ صوم (روزہ) کا اجر لامحدود ہے، اور وہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو دیا جائے گا۔ یہ عظیم ثواب ان لوگوں کے لیے ہے جو جسمانی طور پر صوم یسر کا اہتمام کرنے کے ساتھ شعوری طور پر صوم عسر کا بھی تجربہ کر سکیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues

Printed page