Al-Risala · December 2000 · page 49

عید الفطر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۹

عید الفطر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ آئے تو وہاں کے لوگ ایک سالانہ تہوار مناتے تھے۔ اس میں کھیل تماشا اور دنگل ہوا کرتا تھا۔ آپ نے اہل ایمان سے فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لئے اس سے بہتر دو تہوار مقرر کئے ہیں ــــ عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔ عید الفطر کے معنی ہیں افطار کا تہوار۔ یہ رمضان کا مہینہ ختم ہونے کے فوراً بعد آتا ہے۔ اس دن مسلمان آزادانہ طور پر کھاتے پیتے ہیں۔ خوش ہو کر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ دو رکعت خصوصی نماز اجتماعی طور پر پڑھتے ہیں۔ یہ گویا مہینہ بھر کی پابندی کے بعد آزادی کا دور شروع ہونے کا پہلا دن ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو عید الفطر کہا جاتا ہے۔

عید کے دن لوگ اپنے گھروں سے نکل کر باہر آتے ہیں تو ہر طرف السلام علیکم، السلام علیکم کا ماحول قائم ہو جاتا ہے۔ اس طرح لوگوں میں خوش گوار تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ محبت اور ہمدردی کی روایتیں زندہ ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کے احترام کی قدریں فروغ پاتی ہیں۔ یہ احساس ابھرتا ہے کہ تمام انسان ایک وسیع کنبہ ہیں۔ اور سب کو باہم مل جل کر اور ایک دوسرے کا خیر خواہ بن کر رہنا چاہئے۔ ان احساسات کے تحت جب تمام چھوٹے اور بڑے لوگ میدان میں جمع ہو کر اکٹھے عبادت کرتے ہیں تو وہ اس بات کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ سب کا خدا ایک خدا ہے۔ اور تمام انسان اسی کے بندے ہیں۔ اس طرح عید کے دن کا مزید فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اتحاد اور یک جہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

عید کا دن عبادت کا دن ہے۔ عید کا دن خوشی منانے کا دن ہے۔ عید کا دن سماجی قدروں کو فروغ دینے کا دن ہے۔ عید کا دن انسانی تعلقات قائم کرنے کا دن ہے۔ عید کا دن اس لئے ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے محبت کرنا سیکھیں۔ لوگ ایک دوسرے کا احترام کرنے کی تربیت حاصل کریں۔ عید کا دن بیک وقت خدائی دن بھی ہے اور اسی کے ساتھ انسانی دن بھی۔ وہ خدا کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues

Printed page