عید الفطر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵۰
انسان کے تعلقات کو بڑھاتا ہے اسی کے ساتھ وہ انسانی تعلقات کو اس بنیاد پر استوار کرتا ہے جو واحد مضبوط بنیاد ہے، یعنی باہمی محبت۔ عید آغازِ حیات کا دن ہے۔ روزہ کا مہینہ احتساب کا مہینہ ہے اور عید کا دن اس کے بعد نئے حوصلوں کے ساتھ مستقبل کی طرف اپنا سفر شروع کرنے کا دن۔ روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی دنیا سے اور دنیا کی چیزوں سے ایک محدود مدت کے لئے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ حتیٰ کہ اپنی فطری ضروریات تک میں کمی کر دے۔ رمضان کا اعتکاف اسی کی انتہائی صورت ہے جب کہ بندہ ماسوا سے قطع تعلق کر کے خدا کے گھر میں آکر پڑ جاتا ہے۔ اس کا مطلب لوگوں کورہبان بنانا نہیں ہے۔ یہ ”حساب کئے جانے سے پہلے اپنا حساب کر لو‘‘ کا ایک وقتی لمحہ ہے تاکہ مستقل زندگی کے لئے لوگوں کو تیار کیا جائے۔ عید کا دن اس وقتی لمحہ کا خاتمہ ہے جب کہ مسلمان نئے شعور اور نئی قوتِ عمل کے ساتھ از سرِ نو زندگی کے میدان میں داخل ہوتا ہے۔ تزکیہ نفس اور صبر اور تعلق باللہ کی جو دولت اس نے روزہ کے ذریعہ پائی ہے، اس کو وہ ساری زندگی میں پھیلانے کے لئے دوبارہ دنیا کے ہنگاموں میں واپس آجاتا ہے۔ روزہ وقتی طور پر عالم مادی سے کٹنا ہے اور عید دوبارہ عالم مادی میں لوٹ آتاء روزہ جس طرح محض بھوک پیاس نہیں ہے۔ اسی طرح عید محض کھیل تماشہ کا نام نہیں ہے۔ روزہ اللہ سے قربت حاصل کرنے کی کوشش ہے اور عید اس نئے بہتر سال کا آغاز ہے جو روزہ کے بعد روزہ داروں کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔ آئیے ہم عید سے اپنی نئی زندگی شروع کریں۔ عید کے دن کو اپنی دینی دلی تعمیر کے آغاز کا دن بنائیں ۔ آج ہم، نئی ایمانی قوت اور نئے عملی حوصلہ کے ساتھ زندگی کی جدوجہد میں داخل ہوں۔ ہمارا سینہ خدا کے نور سے روشن ہو۔ ہماری مسجدیں خدا کے ذکر سے آباد ہوں۔ ہمارے گھر تقویٰ اور تواضع کے گھر بن جائیں۔ اللہ کے لئے ہم سب ایک ہو کر وہ جدوجہد شروع کریں جس کے نتیجہ میں ہم کو دنیا میں اللہ کی نصرت ملتی ہے اور آخرت میں اللہ کی جنت۔ روزہ کے بعد عید کا آنا روزہ داروں کے لئے خوش خبری ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے اعلان ہے کہ اگر ہم نے روزہ کی اسپرٹ کو زندگی میں استعمال کیا تو ہم دونوں جہان کی خوشیوں سے ہم کنار ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues