Al-Risala · February 2000 · page 10

جب کشتی ٹوٹی ہو ملاح بدل کر کیا ہوگا

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰، صفحہ ۱۰

زمانہ میں انسان مفروضہ طور پر خدا کی بیٹیوں کی پرستش کرتا تھا، آج پرستش کا یہی معاملہ لوگ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے کر رہے ہیں۔

۲ جنوری ۱۹۹۶ کو ٹرین چلتی ہوئی نظام الدین ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ مقرر وقت کے مقابلہ میں وہ تقریباً پانچ گھنٹہ لیٹ ہو چکی تھی ۔ میں باہر نکل کر پلیٹ فارم پر آیا تو ریلوے والوں کی طرف سے لاؤڈاسپیکر پر مسافروں کو یہ پیغام دیا جا رہا تھا : ” صاف صفائی کو ہم اپنا آدرش بنائیں گے۔ ‘‘ لاؤڈ اسپیکر اور پریس کے دور میں جو نئی چیزیں ظہور میں آئی ہیں، ان میں سے ایک عجیب چیز یہ ہے کہ اپنی ذاتی ذمہ داری کے اعتبار سے ہر آدمی آدرش کو نظر انداز کئے ہوئے ہے، مگر ہر آدمی دوسروں کو آدرش کا سبق دینے کا چمپین بنا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page