جب کشتی ٹوٹی ہو ملاح بدل کر کیا ہوگا
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰، صفحہ ۹
کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ نام نہاد ملی پارلیمنٹ کا یہ اعلان کہ اس کا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کو مشرکین کی سیاسی غلامی سے نجات دلانا ہے، ملک کے آئین اور اس کے سیاسی ڈھانچہ سے متصادم ہے۔
سید شہاب الدین صاحب کی یہ بات بجائے خود درست ہے۔ مگر سید شہاب الدین صاحب خود بھی ۱۹۹۲ کے آخر تک اسی قسم کی ٹکراؤ والی تباہ کن سیاست کے قائد بنے رہے۔ اسی کو کہتے ہیں: خود رافضیت دیگراں را نصیحت۔
اسی اخبار کی ایک خبر یہ تھی کہ جموں وکشمیر کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس مسٹرا یم این سنگھر وال نے بتایا ہے کہ ریاست میں ۱۹۹۵ میں انتہا پسندوں نے سب ملا کر ۵۲۸ شخصوں کا اغوا کیا۔ پچھلے چھ برسوں کے اندر اغوا کئے جانے والے افراد کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ ریاست میں اکتوبر ۱۹۸۹ میں تشدد کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً سولہ سو افراد اغوا کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ۷۲۰ کو اغوا کاروں نے قتل کر دیا۔
کشمیر کی متشددانہ تحریک اسلام کے نام پر چلائی جارہی ہے۔ حالانکہ اس طرح کا اغوا اور قتل اسلامی شریعت میں سراسر حرام ہے۔ عجیب بات ہے کہ وہ علماء جو مسلم پرسنل لاء کے معاملہ میں شریعت سے معمولی انحراف پر بیانات کا اور تقریروں کا طوفان برپا کرنے کے لئے اپنے حجروں سے باہر نکل آتے ہیں، اتنے بڑے غیر شرعی فعل کے بارے میں مکمل طور خاموش ہیں۔
ہمارے ڈبہ میں ایک مرد اور عورت اپنے تقریباً آٹھ سالہ بچہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ایک بار میں نے سنا کہ لڑکا اپنے باپ سے پوچھ رہا ہے کہ میری ممی کہاں گئی۔ غالباً وہ ٹائلٹ میں گئی ہوئی تھی۔ باپ نے جواب میں پوچھا کہ تم کو کیا کام ہے ممی سے۔ بچہ فوراً نہایت سخت لہجہ میں بولا: آپ کو اس سے کوئی مطلب نہیں۔ اور باپ بالکل خاموش رہا۔
اس قسم کی باتیں بار بار دیکھنے اور سننے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس کی پیشین گوئی حدیث رسول میں کی گئی تھی۔ موجودہ زمانہ میں لوگوں کی اولاد ہی ان کا معبود ہے۔ قدیم
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues