دینی تقاضے
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۰، صفحہ ۴
دینی تقاضے
۱۔ دین میں پہلی چیز ایمان ہے۔ ایمان خدا کی معرفت کا نام ہے۔ ایک انسان پر جب یہ حقیقت کھلتی ہے کہ خدا اس کا رب ہے اور وہ اس کا بندہ ہے اور خدا نے اس کی ہدایت کے لئے محمد بن عبد اللہ کو اپنا رسول بنا کر اس کے پاس بھیجا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ یہی ایمان ہے اور اسی کو کلمۂ اسلام کا اقرار کہا جاتا ہے۔ ۲۔ ایمان کی حقیقت سینہ میں اترنے کے فوراً بعد یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے خالق و مالک کے آگے جھک جاتا ہے۔ وہ اپنے تمام بہترین احساسات کو خدا کی طرف موڑتے ہوئے اس کا پرستار بن جاتا ہے۔ اسی کا نام شریعت میں عبادت ہے۔
۳۔ ایسے انسان کا سابقہ جب بندوں سے پڑتا ہے تو وہ عین مزاج کے تحت ہر ایک سے تواضع کے ساتھ پیش آتا ہے۔ وہ ہر ایک کا خیر خواہ بن جاتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں وہ ہمیشہ انصاف کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس سے کسی کو غیر انسانی سلوک کا تجربہ نہیں ہوتا۔ یہی وہ روش ہے جس کا نام اسلامی اخلاق ہے۔
اسلامی اخلاق کے اصول پر قائم رہنے کے لئے صبر انتہائی طور پر ضروری ہے۔ جو آدمی صبر کرنے کے لئے تیار نہ ہو وہ لوگوں کے ساتھ اسلامی اخلاق برتنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
۴۔ جس آدمی کے اندر ایمان کی کیفیت پیدا ہو جائے وہ اپنے قریبی ماحول کے بارہ میں غیر جانبدار بن کر رہ نہیں سکتا۔ اس کا احساس مجبور کرتا ہے کہ وہ برا کرنے والوں کو برائی کرنے سے روکے اور لوگوں کو بھلائی کا طریقہ اختیار کرنے کی ترغیب دے۔ اسی کا نام شریعت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔
۵۔ آخری چیز دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی عام انسانوں کو خدا کے تخلیقی نقشہ سے باخبر کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2000 All issues