آغاز کار
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۶
کل صبح کو جو آدمی سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہو، وہی اس مسئلہ کا فیصلہ کرے اور تمام لوگ اس کے فیصلہ کو مان لیں۔ اگلی صبح کو جب لوگ دوبارہ کعبہ میں آئے تو انھوں نے دیکھا کہ کعبہ میں داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص رسول اللہ ﷺ ہیں۔ ہر ایک نے بیک زبان کہا: هذا الامین رضینا هذا محمد (سیرت ابن ہشام ار ۲۱۳) یعنی یہ تو محمد الامین ہیں، ہم ان کے فیصلہ پر راضی ہیں۔
رسول اللہ نے لوگوں سے کہا کہ ایک چادر لے آؤ۔ وہ لوگ چادر لائے تو آپ نے اس کو زمین پر پھیلایا اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کے اوپر رکھ دیا۔ پھر آپ نے لوگوں سے کہا کہ تم سب لوگ چادر کے کناروں کو پکڑو اور اس کو اٹھا کر کعبہ کی دیوار کے پاس لے چلو۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ نے حجر اسود کو چادر سے اٹھایا اور اس کو کعبہ کی دیوار میں نصب کر دیا۔
پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ عمل ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نزاعی معاملہ کو کس طرح خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ حکیمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ایک کو اس میں شریک کر لیا جائے۔ اس طرح کا معاملہ لوگوں کے لئے اکثر وقار کا سوال بن جاتا ہے۔ اگر حسن تدبیر سے لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کا وقار محفوظ ہے تو مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوگی۔
آغاز کار
پیغمبر اسلام ﷺ کو جب مکہ میں نبوت ملی تو آپ نے اپنے عمل کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے کہ اے لوگو، کہو کہ ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، تم فلاح پاؤ گے (ايها الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا) یعنی تم لوگ شرک کو
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues