Al-Risala · January 2001 · page 15

فراست مومن

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۵

اگر کوئی حکمت کی چیز ملے تو اس کو لینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: الكلمة الحكمة ضالة المومن حيث وجدها فهو احق بها (الترمذي، كتاب العلم) یعنی حکمت کی بات مومن کا گم شدہ سرمایہ ہے وہ جہاں اس کو پائے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔

بعض روایت کے مطابق، حکمت اور تفقہ کی اہمیت عبادت سے بھی زیادہ ہے۔ چنانچہ الترمذی اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقیہ واحد اشد علی الشيطان من الف عابد (مشكاة المصابيح ار۵۷) یعنی ایک فقیہ، شیطان کے اوپر ہزار عابدوں سے بھی زیادہ بھاری ہے۔

پیغمبر اسلام ﷺ کی پوری زندگی حکمت کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ نبوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے آپ نے ہر موقع پر اور ہر مرحلہ میں حکمت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ یہاں اس سلسلہ میں آپ کی زندگی سے چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ نزاع کے موقع پر پیغمبر اسلام ﷺ کی عمر جب ۳۵ سال تھی اس وقت مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ کعبہ کی عمارت بعض اسباب سے منہدم ہو گئی۔ اس کے بعد قریش کے لوگوں نے اس کی نئی تعمیر کی۔ اس دوران یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ حجر اسود کو کون اٹھائے اور اس کو دوبارہ اس کی جگہ پر کعبہ کی دیوار میں نصب کرے۔ یہ چونکہ فضیلت کا ایک معاملہ تھا، ہر ایک یہ چاہنے لگا کہ وہی اس کو اٹھا کر نصب کرے اور اس شرف کا مالک بنے۔

اس سوال پر قریش کے لوگوں میں کئی دن تک جھگڑا جاری رہا اور کوئی اتفاقی فارمولا طے نہ ہو سکا آخر کار قریش کے ایک بزرگ کی تجویز کے مطابق وہ اس پر راضی ہوئے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page