قربت خداوندی
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۴
قربت خداوندی
ایک حدیث میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ: مرضت فلم يعدني ابن آدم (مسند احمد ۲/ ۴۰۳)۔ یعنی میں بیمار ہوا مگر ابن آدم نے میری عیادت نہیں کی۔ اس کی وضاحت خود حدیث میں اس طرح ہے کہ اگر ابن آدم فلاں مریض کے پاس جاتا تو وہ مجھ کو وہاں پاتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا اس مریض کے پاس اسی طرح موجود تھا جس طرح کوئی انسان ایک مریض کے پاس موجود ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اگر سچے جذبہ کے ساتھ مریض کی عیادت کرے تو اس عمل کے دوران وہ ملاقات رب کا تجربہ کرے گا۔ یہ الفاظ تجربہ رب کے معنی میں ہیں نہ کہ مشاہدۂ رب کے معنی میں۔
ایک مومن کے علم میں یہ بات آئی کہ خدا کا فلاں بندہ بیمار ہے۔ مومن کے دل میں اس کے ساتھ ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے۔ اس نے اس کے حق میں دعا کی۔ پھر وہ اس کی ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ روانہ ہواتاکہ اس سے مل کر اس کا حال دریافت کرے اور اس کی عیادت کرے۔ یہاں تک کہ وہ مریض کے پاس پہنچا۔ اس نے سچی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت اسے دیکھا؛ اس کے حق میں سچے جذبہ کے تحت دعائیں کیں اس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا اور دل سے اس کے اندر یہ جذبہ ابھر آکہ اللہ اس کو جلد سے جلد صحت مند کر دے۔ یہ پورا عمل جو کہ تمام تر خدائی جذبہ کے تحت تھا، اس کے دوران برابر خدا کا تصور اس کے ذہن پر چھایا رہا۔ مریض سے ربط کے دوران وہ ہر لمحہ قربت خداوندی کا تجربہ کرتا رہا۔ یہاں تک کہ شدت احساس سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
یہی مطلب ہے ان الفاظ کا کہ اگر انسان اپنے بھائی کی مخلصانہ عیادت کرے گا تو وہ وہاں خدا کو پائے گا۔ اس کے احساسات کی دنیا میں خدا اتر آئے گا۔ مریض کی عیادت اس کے لئے ملاقات رب کا تجربہ بن جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues