حج۔ تکمیل حیات
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۵
حج۔ تکمیل حیات
حج کیا ہے۔ حج اہلِ اسلام کی عالمی عبادت ہے۔ ایک خاص وقت پر ساری دنیا کے مسلمان مکہ میں جمع ہوتے ہیں۔ جہاں پیغمبروں کی تاریخ ثبت ہے۔ یہاں عبادتی ماحول میں وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یہاں کی مخصوص روحانی فضا میں وہ ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرتے ہیں۔ ان مسلمانوں میں مختلف ملکوں کے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ ان کے رنگ اور ان کی عادات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس قسم کے فرق اور اختلاف کے باوجود وہ ایک امت کی طرح مل کر عبادتی رسوم ادا کرتے ہیں۔ وہ ایک ہی کعبہ کے گرد طواف کرتے ہیں۔ وہ ایک ہی وقت میں یکساں عبادتی اعمال انجام دیتے ہیں۔
حج امت مسلمہ میں عالمی اتحاد پیدا کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ حج کی یہ سالانہ عبادت امت کے اندر یکسانیت کا احساس پیدا کرنے میں سب سے بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ زمین کے مختلف مقامات میں بکھرے ہوئے لوگ جب اس طرح ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو ان کا یہ یقین بڑھ جاتا ہے کہ وہ ایک عالمی دین کا حصہ ہیں۔
حج کے بہت سے فائدے ہیں۔ ان میں سے ایک مساوات ہے۔ حج کے موقع پر انسانی برابری کا جو مظاہرہ ہوتا ہے اس کی کوئی دوسری مثال کہیں موجود نہیں۔ اس طرح حج اس بات کی عظیم تربیت ہے کہ لوگ فرق اور اختلاف کے باوجود باہم امت واحدہ بن کر رہیں۔ اس طرح حج دین کے لئے قربانی کرنے کا جذبہ ابھارتا ہے۔
حج کے مقامات میں جو غیر معمولی کشش ہے وہ زائرین کے اندر روحانیت جگانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ یہاں کے تجربات اور مشاہدات کے دوران سینوں میں ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ دل اللہ کی یاد سے معمور ہو جاتے ہیں آنکھیں آنسو بہا کر قربت الہی کا تجربہ کرتی ہیں، وغیرہ۔ حج نہ صرف ایک افضل عبادت ہے بلکہ وہ زندگی کی تربیت کا ایک مکمل کورس ہے۔ حج کے بغیر آدمی اپنی زندگی کی تکمیل سے محروم رہتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues