Al-Risala · April 2001 · page 6

حج۔ تکمیل حیات

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۶

دعوت الی اللہ

موجودہ دنیا میں انسان کو آزمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ جو شخص اس دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلے گاوہ موت کے بعد ابدی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اور جو شخص اللہ کی مرضی سے انحراف کرے گا وہ موت کے بعد جہنم کا مستحق قرار پائے گا۔ یہ زندگی کی سب سے زیادہ سنگین حقیقت ہے۔ اسی حقیقت سے انسانوں کو باخبر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے پیغمبر بھیجے۔ اور آخر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری نبی کی حیثیت سے مبعوث فرمایا۔ یہ پیغام رسانی تمام اہم کاموں میں سب سے زیادہ اہم کام ہے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو گئی۔ مگر کار نبوت اب بھی باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ پہلے جو کام نبیوں کے ذریعہ انجام پاتا تھا وہ اب امت مسلمہ کے ذریعہ انجام پائے گا۔ مسلمان ختم نبوت کے بعد مقام نبوت پر ہیں۔ ان کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ خدائی پیغام رسانی کے کام کو مسلسل جاری رکھیں۔ اگر وہ اس کام کو نہ کریں تو قیامت کے دن وہ اللہ کی گرفت میں آجائیں گے۔ اور کوئی بھی دوسرا عمل انہیں اس سے بچانے والا ثابت نہ ہوگا۔ مسلمان کا تعلق دوسری قوموں سے داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ داعی کی حیثیت سے مسلمانوں کو دوسری قوموں کی زیادتیوں کو برداشت کرنا ہے۔ انہیں یک طرفہ طور پر دوسری قوموں کا خیر خواہ بننا ہے۔ اس کے بغیر وہ فضا پیدا نہیں ہو سکتی جس میں دعوت الی اللہ کا کام موثر طور پر انجام دیا جائے۔

یہ وہی کام ہے جس کو قرآن میں انذار و تبشیر کہا گیا ہے۔ یعنی تمام انسانوں کو زندگی کے بارے میں خدا کی اسکیم سے باخبر کرنا اور یہ بتانا کہ موت کے بعد والے مرحلۂ حیات میں ان کے ساتھ ان کا خدا کیامعاملہ کرنے والا ہے۔ یہ ایک خالص غیر سیاسی اور غیر دینیوی کام ہے۔ اور اس کو اسی خالص انداز میں انجام دیا جانا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page