حقیقی عبادت
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۸
حقیقی عبادت
اسلامی عبادات شخصیت کی تعمیر کا ایک زندہ کورس ہیں۔ وہ محض رسم (rituals) کا کوئی جامد مجموعہ نہیں۔ تاہم ادائیگی کے اعتبار سے اسلامی عبادات کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ عبادات کو خشوع (المؤمنون ۲) کی سطح پر ادا کیا جائے۔ اور دوسرا یہ کہ ان کو قساوت (الزمر ۲۲) کی سطح پر ادا کیا جا رہا ہو۔ اسلامی عبادات کا مطلوب فائدہ صرف خشوع والی ادائیگی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ قساوت والی ادائیگی سے کبھی مطلوب فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ عبادات کو قساوت کی سطح پر ادا کرنا وہ ہے جب کہ ان کو محض جسم کی سطح پر ادا کیا جائے۔ آدمی کا فکری وجود اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔ اس کے برعکس ان عبادات کو خشوع کی سطح پر ادا کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کی زبان یا اس کے جسم کے اعضاء عبادات کے ظاہری افعال انجام دیں تو اسی کے ساتھ اس کی فکری ہستی بھی اس میں پوری طرح شامل ہو جائے۔ اس کی ادائیگی کلمہ محض حرکت لسان نہ ہو بلکہ وہ اس کے لئے ایک داخل القلب (الرعد ۲۸) واقعہ ہو، اس کا ذکر محض الفاظ کا ورد نہ ہو بلکہ اسی کے ساتھ اس کے شعور میں احساس خداوندی کا تہلکہ برپا ہو رہا ہو (الانفال (۲) اس کی نماز محض سہو کی نماز نہ ہو بلکہ وہ اس کے اندر ایسا خشوع پیدا کرے جب کہ اس کی فکری ہستی اور اس کی جسمانی ہستی دونوں مل کر ایک ہو گئے ہوں۔ آدمی اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک فکری ہستی ہے۔ وہ ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ آدمی خود اپنی فطرت کے اعتبار سے مجبور ہے کہ وہ سوچے ۔ کوئی آدمی سوچے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اب جن لوگوں نے اسلامی عبادات کو محض رسوم (rituals) کی سطح پر پایا ہو اور اس بنا پر قساوت کی سطح پر عبادات ادا کرتے ہوں تو ان کی شخصیت دو حصوں میں بٹ جاتی ہے۔ ایک حصہ عبادتی روٹین کا ہوتا ہے جو ایک قسم کے ضمیمہ کے طور پر ان کی زندگی میں شامل رہتا ہے۔ دوسرا حصہ ان کی فکری زندگی کا ہوتا ہے جہاں ہر لمحہ ذہنی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ سچی عبادت وہ ہے جس میں انسان کا جسم اور اس کی روح دونوں عبادت گزار بن جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues