مسائل کے باوجود
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۹
مسائل کے باوجود
زندگی مسائل کے درمیان زندہ رہنے کا نام ہے۔ اس دنیا میں بے مسئلہ زندگی سرے سے ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں ہر آدمی کسی نہ کسی مسئلہ سے دوچار رہتا ہے۔ خواہ وہ دولت مند ہو یا غریب، خواہ وہ طاقت ور ہو یا کمزور، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل۔ مگر انسان کا مزاج مسئلہ سے گھری ہوئی زندگی کو پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ ہر آدمی مسلسل اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ جس مسئلہ میں مبتلا ہے اس کو ختم کردے تا کہ اس کو بے مسئلہ زندگی حاصل ہو جائے۔ مگر جب وہ سالہا سال کی کوشش کے بعد ایک مسئلہ کو ختم کر لیتا ہے تو عین اسی وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ نئے مسائل سے دوچار ہو گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ دوسرا مسئلہ پہلے مسئلہ سے بھی زیادہ سخت ہے۔
یہ ایک ایسی غلطی ہے جس میں تقریباً ہر آدمی مبتلا رہتا ہے۔ وہ ساری عمر بے مسئلہ زندگی کی تلاش میں رہتا ہے۔ مگر وہ کبھی اپنے مقصد کو نہیں پاتا۔ یہاں تک کہ وہ اسی حال میں دنیا سے چلا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی آدمی کے لئے انتخاب بامسئلہ زندگی اور بے مسئلہ زندگی کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہاں آدمی کو ایک قسم کے مسئلہ اور دوسرے قسم کے مسئلہ کے درمیان انتخاب کرنا ہے۔ اور جب ایک مسئلہ کو ختم کر کے دوسرا مسئلہ سامنے آنے والا ہو تو عقل مندی یہی ہے کہ آدمی اسی مسئلہ پر راضی ہو جائے جس میں ابتدا ء و ہ اپنے آپ کو مبتلا پا رہا تھا۔ موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی مسائل کے باوجود اپنے لئے کام کے مواقع تلاش کرے۔ نہ کہ وہ مسائل کو ختم کرنے میں لگا رہے، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر جائے۔ یہ ایک ایسی عام کمزوری ہے جس میں افراد بھی مبتلا رہتے ہیں اور قو میں اور جماعتیں بھی، اس دنیا میں فرد اور قوم دونوں کے لئے کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ وہ مسائل کے ساتھ جینا سیکھیں اور مسائل کے رہتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues