Al-Risala · April 2001 · page 11

اقامت الدین، تفرق فی الدین

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۱۱

اقامت الدین، تفرق فی الدین

مسند احمد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کے حوالہ سے ایک حدیث آئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: خط رسول اللہ ﷺ خطاً ثم قال هذا سبيل الله مستقيماً و خط عن يمينه وشماله ثم قال هذه السبل ليس منها سبيل الاعلیه شيطان يدعوا إليه . ثم قرأ، وأن هذا صراطى مستقيماً فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله (تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر (۱۹۰/۲) یعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے (زمین پر) ایک خط کھینچا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے۔ پھر آپ نے اس سیدھے خط کے دائیں اور بائیں مزید خط کھینچے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ متفرق راستے ہیں، ان میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اپنی طرف لوگوں کو بلا رہا ہے۔ پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: وأن هذا صراطی مستقیماً فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله (الانعام (۱۳۶) اس روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے ایک حقیقت کو تمثیل کے روپ میں بتایا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، زندگی میں ایک شاہراہ (highway) ہوتی ہے جو ایک مقام سے دوسرے مقام تک سیدھی چلی جاتی ہے۔ جو آدمی اس سیدھی شاہراہ پر چلے وہ چلتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ مگر جو شخص شاہراہ کے اطراف میں بکھرے ہوئے ذیلی راستوں میں چلے گا وہ شاہراہ کے دائیں اور بائیں بھٹک جائے گا، وہ اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ دین میں کچھ اساسی تعلیمات ہیں۔ اسی کے ساتھ دین کے کچھ جزئی اور فروعی مسئلے ہیں۔ جو آدمی اپنی ساری توجہ اساسی تعلیمات پر لگائے وہ آخر کار اللہ تک پہنچ جائے گا جو ہر مومن کی اصل منزل ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی اساسی تعلیمات کے معاملہ میں بے توجہی برتتا ہے اور فروعی اور جزئی مسائل میں مشغول ہو جائے، وہ دین کے اصل دھارے سے بھٹک جائے گا۔ وہ اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page