اقامت الدین، تفرق فی الدین
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۱۲
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین میں جو اصولی یا اساسی احکام ہیں بس وہی مطلوب ہیں، جزئی یا فروعی مسائل مطلوب نہیں۔ یہ مطلوبیت کے فرق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تاکید کے فرق کا معاملہ ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو زور وتاکید میں تبدیلی (shift of emphasis) کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایمان کے معاملہ میں اصل چیز ذاتی معرفت ہے۔ اب اگر معرفت کے بجائے گروہی نسبت پر زور دیا جانے لگے تو عارفانہ ایمان ختم ہو کر صرف آبائی ایمان باقی رہے گا۔ اسی طرح عبادت کے معاملہ میں اصل چیز خشوع ہے۔ اب اگر ساری بحث خارجی قسم کے جزئی مسائل پر ہونے لگے تو عبادت کا عمل قلبی خشوع کا ایک عمل نہ رہے گا بلکہ ظاہری اورجسمانی آداب کا ایک عمل بن کر رہ جائے گا۔ اسی طرح قرآن سے تعلق کی اصل اس کی آیتوں میں تدبر کرنا اور اس سے نصیحت حاصل کرنا ہے۔ اب اگر سارا زور اس کے الفاظ کی فنی ادائیگی پر دیا جانے لگے تو قرآن نصیحت کی کتاب نہ ہو کر صرف لفظی تلاوت کی کتاب بن جائے گا۔ اسلامی احکام کے سلسلہ میں اصل اہمیت ذاتی اتباع کی ہے۔ اب اگر ساری تقریر و تحریر کا موضوع یہ بن جائے کہ ان احکام کو دوسروں کے اوپر نافذ کرو تو اسلامی احکام ذاتی اتباع کا موضوع نہ رہ کر خارجی نفاذ کا موضوع بن جائیں گے اور پھر اس کے نتیجہ میں جو چیز ظہور میں آئے گی وہ اسلام کی تعمیل نہ ہوگی بلکہ اسلام کے نام پر بے فائدہ ہنگامہ آرائی اور تخریب کاری ہو گی، وغیرہ۔ رخ نے بے رخ ہونا ہر کام کے کرنے کا ایک صحیح رخ ہوتا ہے اور ایک غلط رخ۔ آدمی صحیح رخ پر چل کر منزل پر پہنچتا ہے اور غلط رخ پر چل کر ادھر اُدھر بھٹک جاتا ہے۔ مثلاً تجارت میں کامیابی کا راز محنت اور دیانت داری ہے۔ اب تاجر کے لئے عمل کا صحیح رخ یہ ہوگا کہ وہ محنت اور دیانت کا ثبوت دے کر تجارتی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہ تاجر کا صحیح تجارتی رخ پر چلنا ہے۔ اور جو شخص صحیح رخ پر چلے وہ ضرور ایک نہ ایک دن کامیاب ہوگا۔ اس کے برعکس اگر وہ یہ کرے کہ بازار کے دوسرے تاجروں کی بربادی پر اپنی تجارتی ترقی کی بنیاد رکھنا چاہے، یا بینکوں میں ڈاکہ ڈال
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues