اقامت الدین، تفرق فی الدین
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۲۱
بھی اس کے لئے ناکافی ثابت ہو رہا ہو۔ اپنی نماز میں خشوع پیدا کرنے کی اسے فکر نہ ہو البتہ مسجدوں کی آرائش و زیبائش کا وہ خوب اہتمام کرتا ہو۔ اپنے کمزور دینی بھائی کے حقوق اس کو یاد نہ آئیں البتہ بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ اسلامی اخوت کا مظاہرہ کرنا وہ کبھی نہ بھولتا ہو۔ اپنے نفس کو خدا کے آگے جھکانے کا اسے شوق نہ ہو البتہ ساری دنیا کو خدا کے آگے جھکانے کا وہ مجاہد بنا ہوا ہو۔ اس قسم کی تمام صورتیں تفرق فی الدین کی صورتیں ہیں۔ ان کو خواہ جس نام پر بھی کیا جائے اور ان کے ساتھ کیسی ہی خوش فہمیاں وابستہ کی جائیں وہ خدا کے یہاں مقبولِ دین کی حیثیت سے لکھی نہیں جاسکتیں۔ دین کے راستہ سے متفرق ہونا ایسا ہی ہے جیسے ٹرین کا اپنی پٹری سے اتر جانا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی تجدیدِ ایمان کے نام پر اٹھے اور پھر کلمہ کی تصحیح اور اس کے طلسماتی خواص پر پوری تحریک چلا دے۔ وہ اسلام کو سر بلند کرنے کا مدعی ہو اور پھر سیاسی کارروائیوں اور احتجاجی جلسوں کے رخ پر دوڑ پڑے۔ وہ دینی تعلیم کو اپنا مقصد بتائے اور پھر گروہی نزاعات اور تعصبات میں قوم کو الجھادے۔ وہ احیائے ملت کا اعلان کرے اور پھر تقریر اور بیانات کے لفظی مشغلہ میں مصروف ہو جائے۔
آدمی جس طرح اقامتِ دین کے عمل میں دین کا نام لیتا ہے، اسی طرح وہ تفرق فی الدین کے عمل میں بھی دین ہی کا نام لیتا ہے۔ دونوں ہی قسم کی سرگرمیاں دین کے نام پر چلتی ہیں۔ مگر ایک اللہ کے یہاں مطلوب ہے اور دوسری اللہ کے یہاں غیر مطلوب۔ ایک سرگرمی سے آدمی کو اللہ کی رضا ملتی ہے اور دوسری سے آدمی اللہ کی ناراضگی کا مستحق بن جاتا ہے۔ اقامت دین کے بارے میں کچھ وضاحتیں قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ جو دین اللہ نے دوسرے نبیوں کو دیا تھا وہی دین تم کو بھی دیا گیا ہے۔ اس دین کو قائم رکھو، اس میں متفرق نہ ہو (الشوریٰ ۱۳) اس آیت کی تفسیر تمام مفسرین یہ کرتے ہیں کہ اس میں دین کے وہ اساسی احکام مراد ہیں جو تمام نبیوں کے یہاں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں۔ اس میں شرائع اور منہاج مراد نہیں ہیں۔ کیوں کہ قرآن کی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues