Al-Risala · April 2001 · page 20

اقامت الدین، تفرق فی الدین

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۲۰

کرے۔ یہی توحید ہے۔ یہ توحید جب کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کے اندر ایک نیا شعور ابھر آتا ہے۔ وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ اس کا خوفِ خدا اور اس کا اعتماد علی اللہ اس کی زندگی میں اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین اور یتیموں اور عام انسانوں کے بارے میں حد درجہ محتاط انسان بن جاتا ہے۔ رزق کے معاملہ میں وہ اپنے کو پوری طرح حلال دائرہ میں محدود رکھتا ہے۔ بے ہودہ کام کرنا اس کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ کسی کو دینا ہو یا کسی سے لینا ہو ہر حال میں وہ انصاف پر قائم رہتا ہے۔ اس کی زبان کھلتی ہے تو سچائی کے لئے کھلتی ہے نہ کہ بیجا حمایت یا بیجا مخالفت کے لئے۔ اس کا تعلق باللہ اس کے اور خدا کے در میان ایک خاموش عہد بن جاتا ہے جس کو وہ کبھی نہ توڑے خواہ اس کے لئے اس کو اپنے آپ پر کتنا ہی جبر کرنا پڑے۔ یہ دین کی شاہراہ پر قائم ہونا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دین کی شاہراہ سے جدا ہونا یہ ہے کہ آدمی مذکورہ چیزوں میں نئی نئی شاخیں نکال کر ان کی دینی اہمیت ثابت کرے اور ان کی طرف دوڑنا شروع کر دے۔ مثلاً اس کا دل اللہ کی کبریائی کے جذبہ سے سرشار نہ ہو البتہ ’’کچھ رجال‘‘ اور ’’کچھ شخصیتوں‘‘ کے ساتھ والہانہ عقیدت کا اظہار اس کا محبوب مشغلہ بنا ہوا ہو۔ تنہائیوں میں اللہ کے ڈر سے اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے نہ ہوتے ہوں البتہ ’’لاؤڈاسپیکر‘‘ کی سطح پر وہ خوب اللہ کے نام کی دھوم مچاتا ہو۔ عبادات میں انابت وتضرع پیدا کرنے کا دھیان اس کو نہ ہو البتہ مسائل عبادت میں طرح طرح کی موشگافیاں پیدا کرنے کا وہ ماہر بنا ہوا ہو۔ وہ اپنے صاحب معاملہ کے ساتھ انصاف نہ کرے البتہ خارجی دنیا میں عدل وانصاف کا نظام قائم کرنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ ہو البتہ دوسروں کے ظلم و بربریت کا اعلان کرنے میں وہ سب سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہو۔

وہ اپنے پڑوسی کی مدد نہ کرے البتہ دور کے مسائل پر تقریر کرنے سے اس کی زبان کبھی نہ تھکتی ہو۔ اس کا دل اللہ کی یاد سے خالی ہو البتہ ذکر کے نام پر الفاظ کی تکرار کرنے میں لاکھوں کا عدد

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page