Al-Risala · April 2001 · page 24

اقامت الدین، تفرق فی الدین

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۲۴

چاہیے اور ان سب کو بروئے کار لانے کا نام اقامت دین ہونا چاہیے۔ ۔488۔490 ۱۔ مذکورہ بالا اقتباس میں ”بعض“ کا لفظ معاملے کی سنگینی کو گھٹا رہا ۔ کیوں کہ یہ رائے صرف ”بعض مفسرین“ کی نہیں ہے بلکہ بلا استثناء تمام قابل ذکر مفسرین کی ہے۔ ۲۔ مذکورہ رائے کو سطحی اور سرسری قرار دینے کے لئے کوئی دلیل نہیں۔ جب حکم کے الفاظ یہ ہیں کہ ”تمام نبیوں کے دین کی پیروی کرو، اس میں متفرق نہ ہو“ تو لا محالہ قرآن کی اس خاص آیت میں الدین سے دین کامشترک حصہ مراد لینا ہو گا نہ کہ متفرق حصہ۔ ۳۔ اقیموا الصلوٰۃ کی آیت میں کوئی شخص اقیموا الزکوٰۃ کو شامل نہ سمجھے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ حکم زکوٰۃ کا انکار کر رہا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ زکوٰۃ کا حکم دوسری آیت میں ہے نہ کہ اقیموا الصلوٰۃ کی آیت میں۔ اسی طرح اقیموا الدین میں شرائع کو مراد نہ لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شرائع سرے سے مطلوب نہیں ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اس آیت میں شامل نہیں ہیں۔ ان کا حکم دوسری آیتوں سے نکلتا ہے اور وہاں جو الفاظ ہیں انہیں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کی نوعیت کیا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان الارض للہ (اعراف ۱۲۸) سے زمین کی اجتماعی ملکیت کا اصول نکالے تو کہا جائے گا کہ اس آیت کا ملکیتِ زمین کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملکیت کے بارے میں بلاشبہ اسلام کے احکام ہیں۔ مگر وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتے ہیں نہ کہ ان الارض للہ سے۔

۴۔ اس ضمن میں سینٹ پال کا حوالہ بالکل غیر متعلق ہے۔ سینٹ پال ازم جس چیز کا نام ہے وہ یہ کہ کوئی شخص اپنے فعل (خواہ اعتقادی ہو یا عملی) سے نجات نہیں پاتا، بلکہ اس خاص عقیدہ سے نجات پاتا ہے کہ خدا کا بیٹا مصلوب ہو کر انسان کے پیدائشی گناہ کا کفارہ ہو گیا۔ بالفاظ دیگر، سینٹ پال ازم یہ ہے کہ انسان کی نجات کا دار و مدار معروف معنوں میں نہ ایمانیات پر ہے اور نہ اعمال پر۔ بلکہ کفارہ کے مخصوص تصور کو مان لینے پر ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بالکل ایک علیحدہ مذہب ہے۔ اقیموا الدین کی مذکورہ تفسیر سے اس کو کوئی مشابہت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page