Al-Risala · April 2001 · page 25

اقامت الدین، تفرق فی الدین

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۲۵

۵۔ یہ بات بھی صحیح نہیں کہ جب اقامت دین کے حکم سے مراد صرف اساسی دین کی اقامت ہے تو بقیہ احکام و ضوابط کس لئے ہیں۔ قرآن سے ثابت ہے کہ شرعی احکام کی تکلیف باعتبار ”وسح“ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس حکم کی تعمیل کسی شخص یا گروہ کے وسع میں نہ ہو اس کے لئے وہ حکم اس وقت تک عملاً موقوف رہے گا جب تک اس کے اندر اس کی قدرت نہ پیدا ہو جائے۔ اساسات دین وہ ہیں جن کی استطاعت ہر شخص کو ہر وقت رہتی ہے، اللہ سے خوف و محبت کا تعلق قائم کرنا اور بندوں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کا معاملہ کرنا کس کے لئے ممکن نہیں۔ اس لئے اساسات دین کی اقامت ایک عام حکم ہے جس کا مکلف ہر شخص ہمیشہ رہتا ہے۔ اس کے برعکس احکام اجتماعی کے نفاذ کا معاملہ اقتدار کا طالب ہے۔ اس لئے اس کے نفاذ کو اقتدار کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ جس کو جتنا اقتدار حاصل ہو، اس کے اعتبار سے اس پر وہ احکام مفروض ہوتے چلے جائیں گے جو اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اسی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کیوں مدنی دور میں حکومتی قوانین جاری کئے اورابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیوں تا عمر ایسا نہیں کیا۔ اس فرق کے باوجود دونوں اللہ کی نظر میں مومن کامل تھے۔ کیوں کہ کسی کے دین کا مکمل ہونا یہ ہے کہ نہ وہ اپنے آپ پر دین کو مکمل طور پر غالب کرے نہ یہ کہ دوسروں کے اوپر مکمل حاکم بننے کے لئے ہنگامہ آرائی کرے۔ ۶۔ یہ اندیشہ بھی صحیح نہیں کہ یہ اہل اسلام کو انفرادی عمل پر قانع بنانا ہے۔ اقیمواالدین کی آیت میں جس توحید پر قائم ہونے کا حکم ہے، دوسرے مقامات (یوسف ۱۰۸) پر یہ عمومی حکم بھی موجود ہے کہ اس پیغام توحید کو دوسرے بندگان خدا تک پہنچاؤ۔ تنفیذ قانون بلاشبہ ایک مشروط حکم ہے۔ مگر دعوت الی اللہ ایک عام حکم ہے جو ہر حال میں مطلوب ہے۔ دعوت کا کام پوری امت کے لئے عظیم ترین اجتماعی نشانہ عطا کرتا ہے۔

۷۔ ایک لفظ اکثر ایک سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ ”دین “ کا لفظ بھی قرآن میں لغوی اور مرادی اعتبار سے کئی معنوں میں آیا ہے۔ ان تمام معانی کی فہرست بنانا اور یہ کہنا کہ اقیموالدین میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page