رازداری
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۲
آجائیں گے۔ (تفسیر القرطبی ۱۵۰/۲)
پیغمبر اسلام ﷺ کا طریقہ مخالفت کے جواب میں مخالفت نہ تھا۔ بلکہ مخالفت کے جواب میں رعایت تھا۔ آپ کی سوچ یہ نہیں تھی کہ لوگوں کو دبا کر انھیں اپنا تابع بنائیں۔ اس کے برعکس آپ کا طریقہ یہ تھا کہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور رعایت کا معاملہ کیا جائے، ان کے دل کو نرم کر کے انھیں اپنا ساتھی بنایا جائے۔
رازداری
فتح مکہ کے واقعات کے ذیل میں آیا ہے کہ مدینہ میں آپ نے سفر کے لئے تیاری کا حکم دیا۔ عام مسلمان ضروری تیاری میں مصروف ہوگئے۔ اس زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق اپنی صاحبزادی عائشہ کے گھر میں آئے جو پیغمبر اسلام ﷺ کی اہلیہ تھیں۔ وہ اس وقت ضروری تیاری کررہی تھیں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنی صاحبزادی سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے تم کو اس کا حکم دیا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے دوبارہ پوچھا کہ یہ تیاری کہاں کے سفر کے لئے ہے۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم مجھ کو نہیں معلوم (واللہ ما ادری) سیرت ابن ہشام ۱۲/۳) پیغمبر اسلام ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ تھی کہ آپ نازک معاملات میں ہمیشہ رازداری کا طریقہ اختیار فرماتے تھے۔ یہی آپ نے فتح مکہ کی مہم میں کیا۔ مدینہ سے آپ اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ نکلے مگر آپ نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ہم کہاں جارہے ہیں۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے جہاں سے راستہ سیدھامکہ کی طرف جاتا تھا، اس وقت ہم نے جانا کہ یہ سفر مکہ کے لئے ہے۔
نازک اجتماعی معاملات میں رازداری بے حد اہم ہے اکثر اوقات کامیابی کا انحصار اس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues