Al-Risala · January 2001 · page 23

صورتِ موجودہ کو مان لینا

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۳

پر ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو آپ کے منصوبہ کا پیشگی علم نہ ہو سکے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس حکمت کو نہایت اہتمام کے ساتھ اپنی زندگی میں اختیار فرمایا۔

صورتِ موجودہ کو مان لینا

جب بھی دو آدمیوں یا دو گروہوں میں نزاع پیدا ہو تو بالآخر دونوں کے درمیان ایک عملی حالت قائم ہو جاتی ہے۔ جس کو اسٹیٹس کو (Status quo) کہا جاتا ہے۔ اس اسٹیٹس کو بدلنے کی کوشش اکثر حالات میں بے نتیجہ ہوتی ہے۔ کیونکہ فریق ثانی اپنی پوری طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ صورت موجودہ (اسٹیٹس کو) بدستور باقی رہتی ہے۔ مزید نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس بے نتیجہ کوشش میں طرفین کے حاصل شدہ مواقع بھی بے فائدہ طور پر ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے نزاعی معاملہ میں پیغمبر اسلام کی سنت یہ ہے کہ موجودہ حالت (اسٹیٹس کو) کو مان لو۔ اس اسٹیٹس کو ازم کا یہ عظیم فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کو یہ فرصت مل جاتی ہے کہ اپنی قوتوں کو مزید استحکام میں لگا دیں۔ مقام نزاع سے ہٹ کر اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ آخر کار طاقت کا توازن بدل جائے اور کسی بڑے ٹکراؤ کے بغیر معاملہ کا فیصلہ کیا جا سکے۔

پیغمبر اسلام ﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر یہی حکمت اختیار فرمائی۔ آپ مدینہ سے روانہ ہو کر حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مکہ کے لوگ بھی چل کر وہاں آگئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو آگے جانے نہیں دیں گے۔ اس طرح حدیبیہ کے مقام پر ایک تعطل کی حالت پیدا ہو گئی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ایسا نہیں کیا کہ اس تعطل کو توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں بلکہ آپ حدیبیہ ہی سے دوبارہ مدینہ واپس آگئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page