Al-Risala · May 2001 · page 4

موت کی یاد

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴

موت کی یاد

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکثر وا ذکر ھادم اللذات الموت (مشکوۃ المصابیح (۵۰۴/۱) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو کہ لذتوں کو ڈھادینے والی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ موت کی یاد بھی ایک ”ذکر“ ہے۔ وہ ایک عبادتی عمل ہے۔ موت کی یاد ایک ثواب ہے جو انسان کے اعمال نامہ میں درج کیا جاتا ہے۔

ایک فارسی شاعر بوڑھا ہو گیا۔ اس کی دونوں آنکھیں جاتی رہیں۔ اس وقت اس نے یہ شعر کہا کہ موت کے ہاتھ نے روانگی کا نقارہ بجا دیا ہے۔ اے میری دونوں آنکھیں اب تم سر کو الوداع کہو:

کوسِ رحلت بکرفت دستِ اجل اے دو چشم وداع سر بکنید

”موت آکر رہے گی“ یہ بات ان لوگوں سے کہنے کی ہے جو ابھی جوانی کی عمر میں ہوں لیکن جو لوگ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے ان کے لئے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ان سے یہ کہا جائے کہ ”موت آنا شروع ہو گئی۔ جوان آدمی کے لئے موت بظاہر مستقبل کی ایک خبر ہے لیکن بوڑھے آدمی کے لئے موت حال میں پیش آنے والا ایک واقعہ۔

حقیقت یہ ہے کہ جوان آدمی اگر موت کو یاد نہ کرے تو یہ اس کے لئے غفلت کی بات ہوگی۔ لیکن جو لوگ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر بھی موت کو بھولے ہوئے ہوں ان کی یہ حالت بے حد سنگین ہے۔ یہ گویا کہ سرکشی ہے اور اللہ کے نزدیک سرکشی سے زیادہ سنگین جرم اور کوئی نہیں۔ موت کو یاد رکھنے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ایک واقعہ کی صورت میں روزہر آدمی کے آس پاس پیش آتی ہے۔ ہر دن یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ کوئی بچپن میں مر گیا اور کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر مرا۔ اس طرح ہر عمر کے لوگ اپنے جیسی عمر کے مرد و عورت کو ہر روز مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے اس کی مثال دنیا میں موجود ہے۔ ایسی حالت میں ہر عقل مند آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو موت کے کنارے محسوس کرے۔ کسی بھی عمر کا آدمی اپنے آپ کو موت سے محفوظ نہ سمجھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page