Al-Risala · May 2001 · page 5

جدید دعوتی امکانات

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۵

جدید دعوتی امکانات

انگلینڈ کی مشہور آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسلامی مطالعہ کا ایک ادارہ کھلا ہے جس کا نام ہے: Oxford Centre of Islamic Studies اس کے افتتاحی اجلاس میں پرنس چارلس نے شرکت کی اور وہاں ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۳ کو اسلام اور مغرب کے موضوع پر ایک مفصل تقریر کی۔

انھوں نے کہا کہ جس زمانہ میں ہمارے ملک میں کنگ الفریڈ مطبخجی موضوعات پر کتابیں جمع کر رہے تھے اسپین کے مسلمان علم کو ترقی دینے میں مصروف تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اسپین کے سلطان کے کتب خانہ میں اس وقت چار لاکھ کتابیں موجود تھیں۔ یہ بقیہ یورپ کے تمام کتب خانوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ تھیں ۔ یہ اس لئے ممکن ہوا کہ مسلم دنیا نے چین سے کاغذ بنانے کا فن مسیحی یورپ سے چار سو سال پہلے حاصل کر لیا تھا۔

موجودہ زمانہ میں مغربی تہذیب نے جو مزاج پیدا کیا ہے اس کا ایک پہلو کھلا پن ہے۔ مذکورہ اقتباس اسی کی ایک مثال ہے۔ پرنس چارلس کے الفاظ خود اپنی قوم کے خلاف ایک بیان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے نہایت کھلے طور پر اس پر اظہار خیال کیا۔ اور اس معاملہ میں مغرب کی کوتاہی اور اسلام کی برتری کی تصدیق کی۔

مغربی انسان کا یہ مزاج ہمارے لیے ایک عظیم دعوتی امکان ہے۔ شکایتی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر خالص دعوتی ذہن سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اہل مغرب اسلام کے لیے بہترین مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مغربی انسان کا غیر مقلدی مزاج، اس کا کھلا پن اور اس کے اندر اعتراف کرنے کی اسپرٹ، اسلام کے لیے ایک موافق زمین کی حیثیت رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا انسان بالقوہ طور پر دین فطرت کے قریب آچکا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس بالقوہ کو بالفعل میں تبدیل کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page