Al-Risala · May 2001 · page 8

تبدیلی کا عمل

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۸

تبدیلی کا عمل

کائنات ایک عظیم کار خانہ ہے۔ ہم روزانہ جو خوراک کھاتے ہیں، وہ قدرت کے اس عظیم کار خانہ کی پیدا وار ہوتی ہے۔ اس کارخانہ کے اندر ہونے والے بے شمار عمل کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ غیر ذی روح مادی اشیاء غلہ سبزی اور گوشت وغیرہ میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ جن کو ہم خوراک کہتے ہیں۔

اس کے بعد جب وہ پیٹ میں داخل ہوتی ہیں تو دوبارہ ایک اور تبدیلی کا عمل شروع ہو تا ہے۔ اب پورا انسانی جسم دوبارہ متحرک ہو جاتا ہے۔

اس حرکت و عمل کے نتیجہ میں یہ ہوتا ہے کہ کھائی ہوئی چیزیں وہ مختلف حیاتیاتی خلیے (cells) تیار کرتی ہیں جو انسان کے جسم میں خون اور گوشت اور ہڈی اور دوسری چیزوں کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ پیٹ کے اندر ہونے والی یہ تبدیلی ہمارے وجود کو مسلسل طور پر زندہ اور متحرک رکھتی ہے۔

یہ دو تبدیلیاں وہ ہیں جو طبیعی طور پر فطرت کے مقرر کئے ہوئے نظام کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ وہ اپنے آپ عمل میں آتی ہیں۔ اور خود اپنے اندرونی قوانین کے تحت اپنی تکمیل تک پہنچتی ہیں۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ سوچے کہ خدا نے کس طرح اس کے حیات جسمانی کے لئے ایک عظیم انتظام کر دیا۔ حالاں کہ اس نے خدا سے اس کی درخواست بھی نہیں کی تھی ۔ یہ احساس آدمی کے اندر اتنی شدت سے پیدا ہونا چاہئے کہ اس کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ احساس شکر کے جذبے سے اس کی آنکھوں سے آنسو اہل پڑیں۔ اور پھر سر اپاسپاس بن کر اس کی زبان سے شکر کا کلمہ نکل پڑے۔

پہلی دو تبدیلیاں نظام فطرت کے تحت اپنے آپ پیش آتی ہیں۔ اور دوسری تبدیلی انسان کو خود اپنے شعور کے تحت وجود میں لانا ہے۔ یہی ان خدائی نعمتوں کی قیمت ہے۔ جو شخص یہ قیمت ادا کر دے وہی خدا کی نعمتوں کے استعمال کا صحیح استحقاق رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page