سرکشی اور تواضع کا رویہ
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۷
سرکشی اور تواضع کا رویہ
اللہ تعالیٰ نے آدم کی صورت میں پہلا انسان پیدا کیا تو اسی وقت اس کو یہ بھی بتا دیا کہ دنیا میں اس کو کس طرح رہنا ہے۔ اس کا مختصر بیان قرآن کی سورہ البقرہ (رکوع ۴) میں موجود ہے۔ اس معاملہ کے چند اجزاء یہ ہیں۔ شجر ممنوعہ، سجدہ کا معاملہ، اور یہ کہ بعضکم البعض عدو اور توبہ۔ آدم اور ان کے واسطہ سے نسل آدم کو آغاز حیات ہی میں ہدایت کا وہ بنیادی سبق دے دیا گیا جو انسان کی ابدی فلاح یا خسران کے لئے فیصلہ کن بننے والا تھا۔
شجر ممنوعہ کو بائبل میں "نیک وبد کی پہچان" کا درخت بتایا گیا ہے۔ یہ بات صحیح ہے تاہم وہ علامتی معنوں میں ہے، جنت میں آدم کو جس درخت کا پھل کھانے سے منع کیا گیا وہ ایک علامتی درخت تھا۔ یہ درخت گویا درخت تمیز تھا۔ وہ اس بات کی علامت تھا کہ اس دنیا میں آدمی کو ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان "فرق" کر کے رہنا ہے۔ اس دنیا میں کوئی چیز ممنوع ہے اور کوئی چیز غیر ممنوع۔ اس لئے ممنوع اور غیر ممنوع کے درمیان فرق کرنا۔ غیر ممنوع کو لیتے ہوئے ممنوع کو چھوڑ دینا۔ اس دنیا میں ایک رویہ سرکشی کا رویہ ہے اور دوسرا تواضع کا رویہ۔ اس لئے سرکشی (ابلیس) کے رویہ اور تواضع (فرشتہ) کے رویہ میں فرق کرنا۔ تواضع کو اختیار کرتے ہوئے سرکشی کو چھوڑ دینا۔ اس دنیا میں ایک اور دوسرے کے درمیان عداوت کے حالات پیدا ہوں گے ۔ اس لئے یہاں ایک مثبت رد عمل ہوگا اور دوسرا منفی رد عمل ۔ دونوں میں فرق کرتے ہوئے مثبت رویہ کو اپنانا اور منفی رویہ کو چھوڑ دینا۔
اس دنیا میں انسان غلطی بھی کرے گا۔ اس کے بعد ایک رویہ اعتراف کا ہوگا اور دوسرا رویہ بے اعترافی کا۔ اب اعتراف کا رویہ اختیار کرنا اور بے اعترافی کا رویہ چھوڑ دینا۔ انسانیت کے آغاز میں پیش آنے والا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ کیا ہے اور غلط طریقہ کیا۔ ان کی کامیابی کا راز کیا ہے اور ان کی ناکامی و نامرا دی کا راز کیا۔