محبت اور علم
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۲
محبت اور علم
ٹامس کارلائل (Sir Thomas Carlyle) ۱۷۹۵ میں پیدا ہوا، ۱۸۸۱ میں لندن میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا شمار مغرب کے مشہور مصنفوں میں ہوتا ہے۔ اس نے اپنے تاریخی مطالعہ کی روشنی میں لکھا ہے کہ محبت کرنے والا دل تمام علوم کا آغاز ہے: A loving heart is the beginning of all knowledge. قول نہایت بامعنی ہے۔ مگر اس کی معنویت کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا جب تک اس میں یہ اضافہ نہ کیا جائے کہ ”نفرت کے اسباب کے باوجود محبت کرنے والا“۔ کیوں کہ اس دنیا میں نفرت اور بیزاری کے اسباب ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ کوئی شخص اس وقت تک انسانوں سے محبت نہیں کر سکتا جب تک وہ اس بلند حوصلگی کا ثبوت نہ دے کہ لوگوں کی طرف سے نفرت کا تجربہ پیش آنے کے باوجود وہ ان سے محبت کرے۔
خود ٹامس کارلائل کی زندگی اس کی ایک سبق آموز مثال ہے۔ صلیبی جنگوں کے بعد مغربی یورپ کے لوگوں کو اسلام اور مسلمانوں سے سخت نفرت ہو گئی۔ اس نفرت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پیغمبر اسلام کی شخصیت کو پہچان نہ سکے۔ صدیوں تک وہ آپ کو ایک برا انسان سمجھنے کی نادانی میں مبتلا رہے۔ ٹامس کارلائل نے صلیبی جنگوں کے پیدا کردہ اسباب نفرت سے اوپر اٹھ کر پیغمبر اسلام کا مطالعہ کیا۔ وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے آپ کو پیغمبروں کا ہیرو قرار دیا اور نہایت اونچے الفاظ میں آپ کی شخصیت کا اعتراف کیا۔ ٹامس کارلائل کا یہ اعتراف اس کی کتاب ہیروز اینڈ ہیرو در شپ (Heroes and Hero worship) میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اپنے سینہ میں اس دل کی پرورش کرنا جو نفرت کے باوجود محبت کر سکے، خود اپنے آپ کو عظیم ترین اخلاقی بلندی کی طرف لے جانا ہے۔ یہ اخلاقی صفت ہی وہ واحد زمین ہے جس کے اوپر علم کا پودا اگتا ہے اور بڑھ کر سر سبز و شاداب درخت بن جاتا ہے۔