یک طرفہ حسن سلوک
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۳
یک طرفہ حسن سلوک
احنف بن قیس تابعی کا واقعہ ہے۔ ایک دن وہ بازار گئے اور اپنی ضرورت کا سامان لے کر اپنے گھر واپس جانے لگے۔ راستہ میں ان کو ایک آدمی ملا جو ان سے بغض رکھتا تھا۔ وہ ان کو برا بھلا کہنے لگا۔ احنف بن قیس خاموشی کے ساتھ اس کو سنتے ہوئے اپنا راستہ چلتے رہے۔ وہ آدمی بھی ان کے ساتھ چلتا رہا اور مسلسل ان کو گالیاں دیتا رہا۔
آخر کار ایک جگہ پہنچ کر احنف بن قیس رک گئے۔ اب وہ اس آدمی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے کہا کہ میں یہاں کھڑا ہوں۔ تم کو اور جو کچھ میرے خلاف کہنا ہے اسے کہہ لو۔ کیوں کہ اب میرا محلہ قریب آگیا ہے۔ یہاں لوگ میری عزت کرتے ہیں اور مجھ سے محبت رکھتے ہیں۔ مجھ کو ڈر ہے کہ ان کے سامنے اگر تم نے مجھ کو برا کہا تو وہ برداشت نہیں کریں گے اور ضرور تم کو تکلیف دیں گے۔ (قل ما عندك، فأنه قد دنا الحي واهله يوقروني، و إنى لاخشى أن يُؤذوك إذا سمعوك تسبني)
یہ ایک عظیم انسانی صفت ہے۔ جو مذکورہ واقعہ میں ملتی ہے۔ احنف بن قیس تابعی کو یہ پریشانی نہیں ہوئی کہ ایک شخص انہیں بُرا کہہ رہا ہے۔ اس کے بجائے وہ یہ سوچ کر پریشان ہوئے کہ ان کے محلے والے اگر اس بات کو جان لیں گے تو وہ مذکورہ شخص کو تکلیف پہنچائیں گے۔ یہی بات مزید اضافہ کے ساتھ داعی کے اندر پائی جاتی ہے۔ داعی کو جب اس کا مدعو گروہ ستاتا ہے اور اس پر ظلم کرتا ہے تو وہ اپنی مظلومیت سے زیادہ اس بات کے لیے فکر مند ہو جاتا ہے کہ مدعو گروہ اپنی اس بے راہ روی کی بنا پر خدا کی پکڑ میں نہ آجائے۔ یہ احساس داعی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ مدعو کے خلاف بد دعا کرنے کے بجائے اس کے حق میں دعا کرے ۔ وہ اس سے انتقام لینے کے بجائے اس کے ساتھ درگزر کا معاملہ کرے ۔ وہ اس کے غلط سلوک کو دیکھ کر اس کے ساتھ اور بھی زیادہ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے۔ لوگوں کے ساتھ یکطرفہ شفقت کا معاملہ کرنا، ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے اور یہ اعلیٰ انسانی صفت داعی کے اندر آخری حد تک پائی جاتی ہے۔