عبرت پذیری
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۸
قوله: افلم يسيروا فی الارض فتكون لهم قلوب يعقلون بها او آذان يسمعون بها، (الحج ۴۶) بعض مفسرین کے نزدیک السائحون سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی توحید اور اس کے نظام تخلیق میں بہت زیادہ فکر کریں اور اللہ نے جو عبرت اور نشانیاں اپنی توحید اور عظمت کو بتانے والی پیدا کی ہیں ان پر غور کریں (وقيل هم المجاهدون بافكار هم فی توحيد بهم و ملكوته و ما خلق من العبر و العلامات الدالة على توحيده وتعظيمه)
انسان کے بنائے ہوئے تمدن کے ماورا جو خدا کی دنیا ہے وہ خدا کی صفات کمال کا براہ راست مظہر ہے۔ یہاں مخلوقات میں اس کا خالق دکھائی دیتا ہے۔ اپنے اس تخلیقی کارخانہ میں خدا نے ایسی نشانیاں رکھ دی ہیں جو سوچنے والے کی آنکھیں کھول دیں۔ جو اس کے اندر ربانی شعور بیدار کریں، جو اس کو تڑپا کر اس کے رب سے ملا دینے کا سبب بن جائیں۔
آدمی کا عمل اس کی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ سوچ گہری ہوگی اتنا ہی زیادہ گہرانیتیجہ نکلے گا اور سوچ میں جتنی کمی ہوگی اتنا ہی عمل میں کمی ہو جائے گی۔
اسلام کی بنیاد شعور پر قائم ہے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے شعور کو زیادہ سے زیادہ بیدار کیا جائے۔ انسان کی فکری صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ ابھاراجائے۔ انسانی دماغ کے سوئے ہوئے خانوں کو آخری حد تک متحرک کر دیا جائے۔
اسی شعوری بیداری پر اسلامی زندگی کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ باشعور لوگ ہی اعلیٰ ایمان کا تجربہ کرتے ہیں۔ باشعور لوگوں کی عبادت ہی زندہ عبادت ہوتی ہے۔ باشعور لوگ ہی یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان کی زندگیاں ربانی کردار کا نمونہ بنیں۔ باشعور افراد کے مجموعہ کا نام ہی صالح معاشرہ ہے۔ باشعور افراد ہی یہ طاقت رکھتے ہیں کہ وہ اسلام کے اصولوں پر ایک حقیقی نظام بنائیں۔