Al-Risala · May 2001 · page 27

عبرت پذیری

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۷

عبرت پذیری

ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (جلدا) میں محمد بن واسع سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص بصرہ سے سوار ہو کر ام ذر کے پاس آیا جب کہ ان کے شوہر ابو ذر کا انتقال ہو چکا تھا۔ اس نے ام ذر سے پوچھا کہ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ مجھے حضرت ابوذر کی عبادت کے بارہ میں بتائیں۔ صحابی کی اہلیہ ام ذر نے جواب دیا: وہ سارے دن اکیلے بیٹھے ہوئے سوچتے رہتے تھے (کان النھار اجمع خالیاً يتفكر) اسی طرح ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (جلدا) میں عون بن عبد اللہ بن عقبہ سے نقل کیا ہے۔ انھوں نے ام الدرداء سے پوچھا کہ حضرت ابو الدرداء کا سب سے افضل عمل کیا ہوتا تھا۔ ان کی اہلیہ نے جواب دیا: سوچنا اور عبرت پکڑنا (التفكر والاعتبار) سالم بن ابی جعد کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء کے سامنے سے دو بیل گزرے۔ دونوں کو ان کے مالک نے کام پر لگا رکھا تھا۔ ایک بیل اپنے کام پر قائم رہا اور دوسرا رک گیا۔ حضرت ابو الدرداء نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اس میں بھی عبرت ہے (ان فی هذا لمعتبراً) یعنی رکنے والے نے مالک کا ڈنڈا کھایا اور دوسرے نے نہیں، یہی معاملہ انسان کے ساتھ اس کا خد کرے گا۔ قرآن میں غور و فکر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ یہ غور و فکر مومن کی مستقل صفت ہے۔ اسی سے آدمی کے اوپر معرفت خداوندی کے دروازے کھلتے ہیں۔ اسی سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی سے وہ اس درجہ احسان تک پہنچتا ہے جس کے متعلق حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو (تعبد الله كانك تراه) قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت السائحون (زمین پر پھرنے والے) بتائی گئی ہے۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے۔ سیاحت کا لفظ قدیم زمانہ سے مذہبی سفر کے لئے بولا جاتا رہا ہے۔ لسان العرب میں اس کی تشریح کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: الذهاب في الارض للعبادة والترهب (عبادت اور دنیا سے بے تعلقی کے لئے زمین میں نکل جانا) مفردات امام راغب میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page