ایک واقعہ دو انجام
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۲
ہے جس کا نام مدرسۃ الحراء ہے۔
ایک طرف جسولا ویہار کی یہ مسجد ہے جس کو توڑنے سے ہندو انکار کر دیتا ہے، دوسری طرف ایودھیا کی مسجد ہے جس کو ہندو اقدام کر کے توڑ ڈالتا ہے۔ یہ فرق کیوں۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ جسولا ویہار کا ہندو ایک نارمل ہندو تھا۔ جب کہ ایودھیا کا ہندو ایک غیر نارمل ہندو تھا۔ جس کی انا کو نا اہل مسلم لیڈروں نے اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے بھڑکا دیا تھا۔ گویا کہ جسولا ویہار کا ہندو اگر مسٹر ہندو تھا تو ایودھیا کا ہندو مسٹر ایگو تھا۔ سیکڑوں سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر ہندو نے کبھی کسی مسجد کو نہیں توڑا مگر جب مسٹر ہندو کو بھڑکا کر مسٹر ایگو بنا دیا جائے تو اس کے بعد وہ ہوگا جو ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو ایودھیا میں پیش آیا۔
اجتماعی زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ دوسروں کے ایگو (انا) کو نہ بھڑکائیں۔ جس انسان کا ایگو بھڑکایا گیا ہو وہ اپنی ضمیر کے تابع ہوتا ہے اور جس انسان کا ایگو بھڑکا دیا جائے وہ اپنی نفس امارہ کے تابع بن جاتا ہے اور جو انسان اپنی نفس امارہ کے تابع بن جائے وہ گویا ایک حیوان ہے، اگرچہ بظاہر وہ ایک انسان دکھائی دیتا ہو۔
مذکورہ واقعہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ: اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب اللہ کے بس میں ہے ”وإن تصبروا و تتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً إن الله بما يعملون محيط “ (آل عمران (۱۲۰)۔
اس آیت کے مطابق، اس دنیا میں اصل مسئلہ کید (سازش) کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ صبر کی غیر موجودگی ہے۔ اہلِ ایمان اگر صبر کی روش اختیار کریں تو ان کے لئے خدا کی ضمانت ہے کہ ان کے خلاف سازش کرنے والوں کی سازش یقینی طور پر بے اثر ہو کر رہ جائے گی۔ البتہ اگر اہلِ ایمان بے صبری کی روش اختیار کریں تو سخت اندیشہ ہے کہ وہ اغیار کی سازش کی زد میں آجائیں۔ مذکورہ دونوں مثالیں اس کا کھلا ہوا نمونہ ہیں۔ ایودھیا کی مسجد کے معاملہ میں جذباتی