ایک واقعہ دو انجام
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۳
لیڈروں کی رہنمائی میں مسلمانوں نے غیر صابرانہ روش اختیار کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایودھیا کی مسجد کو کچھ مشتعل ہندوؤں نے توڑ دیا۔ اس کے برعکس، دہلی کی مسجد کے معاملہ میں کوئی جذباتی لیڈر اشتعال دلانے کے لئے موجود نہ تھا۔ یہاں فطرت نے مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ چنانچہ انہوں نے صبر اور خاموشی کی روش اختیار کر لی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی کی مسجد جہاں تھی وہیں بدستور قائم رہی، بلکہ سرکاری حکم کے باوجود ہندوؤں نے اس کو توڑنے سے انکار کر دیا۔ جسولا وہار کی مسجد اور ایودھیا کی مسجد کا تقابل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں محلی طور پر ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ تمثیل یا تقابل کا یہ مطلب کبھی نہیں ہوتا کہ دونوں کے درمیان کلی یکسانیت پائی جائے۔ تمثیل یا تقابل ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان جزئی مشابہت کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ کلی مشابہت کے اعتبار سے۔
اسی طرح یہاں جسولا وہار کی مسجد اور ایودھیا کی مسجد کے درمیان جو تقابل کیا گیا ہے وہ صرف ایک پہلو کے اعتبار سے ہے، اور وہ یہ ہے کہ دونوں مسجدوں کا معاملہ یکساں طور پر ہندو کے ساتھ پیش آتا ہے، مگر ایک ہندو مسجد کو توڑ ڈالتا ہے اور دوسرا ہندو مسجد کو نہیں توڑتا۔ زندگی کے معاملات کو سمجھنے کے لئے تقابل (comparison) کا طریقہ نہایت اہم ہے۔ اس تقابل ہی سے زندگی کی زیادہ گہری حقیقتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ بشرطیکہ تقابلی مطالعہ کرنے والا آدمی کھلے ذہن کے ساتھ یہ مطالعہ کرے۔ اور مطالعہ کا جو نتیجہ نکلے اس کو وہ بلا بحث مان لے، خواہ یہ نتیجہ اس کے خلاف ہو، اور خواہ یہ نتیجہ اس کے پورے نظریاتی ڈھانچہ کو ڈھادینے والا ہو۔ کوئی آدمی جب ایک سچائی کا انکار کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں ایک خارجی چیز کا انکار کر رہا ہوں، حالانکہ وہ خود اپنا انکار کر رہا ہوتا ہے، اگر چہ وہ اپنی نادانی کی بنا پر اس کو نہیں جانتا۔