ایک واقعہ دو انجام
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۵
واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ مدینہ کے ایک مسلمان اور مدینہ کے ایک یہودی کے درمیان تکرار ہوئی۔ یہودی نے قسم کھا کر کہا کہ اس خدا کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام دنیا والوں پر فضیلت دی۔ یہ سن کر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے چہرہ پر طمانچہ مار اور کہا کہ اے خبیث، کیا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اوپر بھی۔ اس کے بعد یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور مسلمان کے خلاف شکایت کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: لا تفضلونی علی الانبیاء (تفسیر ابن کثیر ۱/ ۳۰۲) یعنی مجھ کو دوسرے نبیوں پر فضیلت نہ دو۔ اس مفہوم کی اور بھی کئی روایتیں ہیں۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: لا تفضلوا بین الانبیاء (صفحہ ۳۰۲) یعنی نبیوں کے درمیان ایک دوسرے کو افضل نہ بتاؤ۔ مذکورہ روایت بتاتی ہے کہ افضل الانبیاء کی تعبیر شریعت میں کیوں اختیار نہیں کی گئی۔ مسلمان اور یہودی کے مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ افضل الانبیاء کی تعبیر ، بطور واقعہ درست ہونے کے باوجود، لوگوں کے اندر فخر و ناز کی نفسیات پیدا کرتی ہے۔ ہر ایک اپنے فخر کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غیر ضروری قسم کے نزاعات ابھرتے ہیں۔ ایک گروہ دوسرے گروہ پر اپنی برتری ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے، جب کہ زیادہ صحیح اور مفید بات یہ ہے کہ خدا کا اصل دین لوگوں کے درمیان زیر بحث آئے۔ داعی اور مدعو کے درمیان دعوت کے موضوع پر ڈائیلاگ ہو نہ کہ دونوں ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرنے میں مصروف ہو جائیں۔
اس معاملہ میں قرآن اور حدیث سے جو مخصوص تعبیر ملتی ہے اس کا فائدہ یہی ہے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کو خاتم النبیین (الاحزاب ۴۰) کہا گیا ہے۔ یہ تعبیر اہلِ ایمان کے اندر ذمہ داری کا جذبہ ابھارتی ہے۔ اس سے یہ احساس بیدار ہوتا ہے کہ پیغمبر کے بعد اب پیغمبر کے ماننے والوں کو یہ کام کرنا ہے کہ آپ کے لائے ہوئے دین کی ہر زمانہ اور ہر نسل میں اشاعت کرتے رہیں۔ وہ ختم نبوت کے بعد پیغام نبوت کا تسلسل دنیا میں جاری رکھیں۔ یہ