ایک واقعہ دو انجام
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۶
تعبیر بتاتی ہے کہ ختم نبوت کے بعد آپ کی امت مسئولیت کے اعتبار سے مقام نبوت پر ہے۔ پہلی تعبیر اگر فخر کا احساس پیدا کرتی ہے تو دوسری تعبیر ذمہ داری کا احساس ابھارتی ہے۔ اسی طرح حدیث کی یہ تعبیر کہ ”انا الماحی الذی یمحو بی اللہ الکفر (البخاری، کتاب المناقب) یعنی میں مٹانے والا ہوں، اللہ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹائے گا۔ اُس تعبیر سے دوبارہ ذمہ داری کا گہرا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس میں اہل ایمان کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ہر دور میں جو باطل نظریہ ابھرنے، ہر دور میں دین حق کے خلاف جو شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں ان کے مقابلہ میں وہ بھر پور طور پر کھڑے ہوں اور ہر فکری اور نظریاتی محاذ پر اٹھنے والے طوفانوں کو پیچھے دھکیل دیں۔ یہ وہی فکری جہاد ہے جس کو قرآن میں جہاد کبیر کہا گیا ہے (الفرقان ۵۲) تعبیر کی اہمیت نفسیاتی اعتبار سے بے حد اہم ہے۔ مثلاً پیغمبر کے ساتھ قلبی تعلق کے بارے میں عشق رسول کی غیر منصوص تعبیر خوش عقیدگی کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں محبت رسول کی منصوص تعبیر اطاعت رسول کا جذبہ ابھارتی ہے۔ اسی طرح افضل الانبیاء کی غیر منصوص تعبیر فخر کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں قرآن و حدیث کی مذکورہ منصوص تعبیر دعوت اور عمل کا جذبہ ابھارتی ہے۔
سوال
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے اجودھیا کی بابری مسجد کے مسئلہ کا یہ حل پیش کیا کہ بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالے کر دیا جائے۔ کیا کوئی مسجد کسی کے حوالہ کی جاسکتی ہے، اس کی وضاحت فرمائیں۔ (سید اکرام الدین، حیدر آباد)
جواب
مسجد ابدی طور پر مسجد ہے۔ مسجد حکماً اللہ کی ملکیت ہے نہ کہ مسلمانوں کی ملکیت۔ اس لئے مسجد کو کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کے حوالے نہیں کیا جاسکتا کسی بھی شخص کو اس قسم کا حق حاصل نہیں۔ میرے بارے میں جو لوگ مذکورہ قسم کی بات کہتے ہیں، وہ میرے اوپر ایک بے بنیاد الزام