Al-Risala · May 2001 · page 49

The Role of Islam in the Emerging Scenario.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۹

رہتے ہیں۔ پھول اور کانٹے آپس میں تشدد نہیں کرتے۔ پھر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ پھول اور پھول ایک ساتھ امن کے ساتھ نہ رہ سکیں۔ جو آدمی دوسرے آدمی کو پھول کے روپ میں دیکھے وہ خود بھی پھول بن جائے گا۔ اور جو انسان دوسرے انسان کو کانٹے کے روپ میں دیکھے وہ خود ایک کانٹا بن جائے گا۔ آہنگ وادی پہلے اپنے آپ کو مارتا ہے، اس کے بعد دوسرے انسان کو۔

کیتھولک کیتھیڈرل (گول مارکیٹ، نئی دہلی) میں ۹ فروری ۲۰۰۱ کو ایک پروگرام ہوا۔ وہ گجرات کے زلزلہ ۲۶ جنوری ۲۰۰۱ کے اوپر تھا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ اسلام کی نمائندگی کے لئے صدر اسلامی مرکز کو بلایا گیا تھا۔ انہوں نے اس موضوع پر مختصر انداز میں اظہار خیال کیا۔ اور دعا کی کہ اللہ گجرات کے ان پریشان حال لوگوں کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ اور ان کو دوبارہ ایک نئی زندگی کی تعمیر کے قابل بنائے۔ گجرات کے زلزلہ (۲۶ جنوری ۲۰۰۱) کے حادثہ پر ۱۱ فروری ۲۰۰۱ کو گاندھی درشن (راج گھاٹ، نئی دہلی) کے ہال میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس کے چیر مین سابق صدر جمہوریہ مسٹر آر وینکٹ رمن تھے۔ اس میں مختلف ملکی تنظیموں کے نمائندے اور ریلیف کے لئے کام کرنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز بھی اس میں شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ گجرات کا زلزلہ ہمارے لئے ایک بے حد بھیانک واقعہ تھا۔ یہ ایک اچھی علامت ہے کہ اس موقع پر پورے ملک نے باہمی اختلاف کو بھلا کر تعاون کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے معاملے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر شخص اپنے بس بھر خدمت کرے، جس آدمی کے پاس جسمانی طاقت ہو وہ اپنی جسمانی طاقت سے لوگوں کی خدمت کرے ۔ جس کے پاس پیسہ ہو وہ اس میں اپنا پیسہ دے۔ اگر کسی کے پاس دینے کے لئے اس قسم کی کوئی چیز نہ ہو تب بھی اس کا فرض ہے کہ وہ دل سے مصیبت زدہ لوگوں کے لئے تڑپے۔ وہ آنسو بہا کر ان کے لئے خدا سے دعا کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page