Al-Risala · May 2001 · page 48

The Role of Islam in the Emerging Scenario.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۸

۲۹ جنوری ۲۰۰۱ کو بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر مارک لنڈلے (Mark Lindley) نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی اور اپنی ایک زیر تیاری کتاب کے لئے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کی اس کتاب میں ایک باب اسلام پر ہے۔ انہیں اسلام سے متعلق ضروری معلومات دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عام تاثر یہ ہے کہ اسلام ایک تشدد کا مذہب ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کو اسلام کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرایا گیا۔ انٹرویو کے دوران وہ تمام باتوں کو اپنے کمپیوٹر(laptop) کے ذریعہ نوٹ کرتے رہے۔ انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک امریکی ادارہ انٹرنیشنل سوسائٹی ڈاوری اینڈ برانڈ (International Society Against Dowry & Bride Burning)

کے تحت دو روزہ سیمنار ہوا۔ اس کی دعوت پر ۳۰ جنوری ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز نے اس کے اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ زیادہ تر لوگ اس مسئلہ پر جہیز وغیرہ کے خلاف آواز اٹھانے کو کام سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک زیادہ مفید بات یہ ہے کہ عورت کی اہمیت اور افادیت کو مردوں کے ذہن نشین کرایا جائے۔ عورت ایک مرد کے لئے بہترین رفیقہ حیات ہے۔ مرد اگر عورت کو جان لے تو اپنے آپ جہیز کا اور جلانے مارنے کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد مرد کے لئے عورت ایک سرمایه (asset) بن جائے گی نہ کہ ایک بوجھ (liability)۔ اس سلسلہ میں مزید بتایا گیا کہ الرساله مشن کے تحت اس کا کامیاب تجربہ کیا جارہاہے۔

۳۱ جنوری ۲۰۰۱ کو اگھل بھارتیہ یووا مورچہ کی طرف سے جنتر منتر روڈ (نئی دہلی) میں ایک جلسہ کیا گیا۔ اس کا موضوع آتنک واد تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آتنک واد کیا ہے، آتنک واد تجھو واد ہے، آتنک واد بھیٹریا داد ہے۔ یہ انسان کے لئے شرم کی بات ہے کہ وہ آتنک وادی ہو۔ ہر انسان خدا کی تخلیق ہے۔ ہر انسان خدا کا ایک پھول ہے۔ دنیا کے باغ میں پھول اور کانٹے ایک ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page