Al-Risala · June 2001 · page 5

زندہ قلب

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۵

زندہ قلب

عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه انه قال: أُطْلُبْ قَلْبَكَ فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ، عند سماع القرآن وفي مجالس الذِّكْرِ و فِي اوقات الخلوة. فَانْ لَمْ تَجِدُهُ فِي هذِهِ المواطن فَسَلِ اللهَ أن يَمُنَّ عليك بقلب فإنه لا قَلْبَ لَكَ :

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم تین مواقع پر اپنے دل کو تلاش کرو۔ قرآن سننے وقت اور خدا کے ذکر کی مجلسوں میں اور تنہائی کے کے وقتوں میں۔ اگر ان مواقع پر تم اپنے دل کو نہ پاؤ تو اللہ سے درخواست کرو کہ وہ تم کو ایک دل دے دے کیوں کہ تمہارے پاس دل موجود نہیں۔ دل آدمی کے جسم میں کیفیت کا سر چشمہ ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بتاتا ہے کہ ایک مومن سے مختلف احوال میں جو قلبی کیفیات مطلوب ہیں ، وہ کیا ہیں۔ مثلاً قرآن سننے کے وقت، خدا کی یاد کی مجلسوں میں اور اسی طرح تنہائی کے لمحات میں، یہ تین مواقع وہ ہیں جب کہ دینی اور ربانی کیفیات خصوصی طور پر آدمی کے اندر جاگتی ہیں۔ ان مواقع پر غافل آدمی بھی چونک پڑتا ہے۔ سویا ہوا آدمی بھی جاگ اٹھتا ہے۔ وہ فطرت کی گہرائیوں میں اتر کر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آدمی کا دل اگر زندہ ہو تو اس کا حال یہ ہوگا کہ جب اس کے سامنے قرآن پڑھا جائے گا تو اس سے اس کو ربانی غذا ملنے لگے گی۔ جب اس کو خدا کی یاد دلائی جائے گی تو اپنے خالق و مالک کے بارہ میں اس کے اندرونی احساسات جاگ اٹھیں گے۔ جب وہ تنہائی میں ہو گا تو اس کے اندر احتساب خویش کی کیفیت ابھر آئے گی۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے کھڑا ہوا پائے گا۔ اگر کسی آدمی کا حال یہ ہوگا کہ یہ خصوصی مواقع بھی اس کی روح میں ہلچل پیدا نہ کریں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر کی کھیتی ویران ہو گئی ہے۔ اس کے اندر فطرت ربانی کے سوتے خشک ہو گئے ہیں۔ جو شخص اپنے آپ کو اس حال میں پائے، اس کو چاہئے کہ وہ اللہ سے اپنے لئے ایک زندہ قلب اور کیفیت سے بھری ہوئی روح کا طالب بنے۔ کیوں کہ اس کے بغیر انسان کی کوئی قیمت نہیں۔ اس کے بغیر کسی انسان پر سعادتوں کا دروازہ کھلنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page