Al-Risala · June 2001 · page 6

خیرامت

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۶

خیرامت

’’تم خیر امت ہو‘‘ اور ’’ہم خیر امت ہیں‘‘ ان دونوں فقروں میں بظاہر معمولی لفظی فرق ہے۔ مگر پہلا فقرہ قرآن میں موجود ہے، جب کہ دوسرا فقرہ قرآن یا حدیث میں موجود نہیں۔ قرآن وسنت اور آثار صحابہ کا پورا ذخیرہ دوسرے فقرے سے یکسر طور پر خالی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تو صحابۂ کرام کے بارے میں فرمایا کہ ’’تم خیر امت ہو‘‘ مگر کسی بھی صحابی کی زبان سے کبھی یہ الفاظ نہیں نکلے کہ ’’ہم خیر امت ہیں‘‘۔

یہ فرق بتاتا ہے کہ دونوں جملوں میں اگرچہ بظاہر صرف معمولی لفظی فرق ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک مکمل طور پر صحیح ہے اور دوسرا مکمل طور پر غلط۔ اگر دونوں جملوں میں یہ فرق نہ ہوتا تو جس طرح پہلا فقرہ قرآن میں موجود ہے، اسی طرح دوسرا جملہ بھی اصحاب رسول کی زبان سے ضرور ادا کیا جاتا۔

اصل یہ ہے کہ ’’خیر امت‘‘ اللہ تعالیٰ کا ایک فیصلہ ہے نہ کہ مسلمانوں کا گروہی لقب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جب اپنے سالہا سال کے عمل کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا کہ وہ فی الواقع ان اوصاف کے حامل ہیں جو اللہ کی نظر میں اوصاف خیر کی حیثیت رکھتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ نے بطور اظہار واقعہ یہ ارشاد فرمایا کہ اے اصحاب رسول اب تم خیر امت کے درجہ کو پہنچ چکے ہو۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس سے کنتم خیر امۃ کی یہ تفسیر منقول ہے کہ اس سے مراد اصحاب رسول ہیں (بقیہ لوگ اپنے عمل کے اعتبار سے عند اللہ اس میں شامل قرار پائیں گے)۔ اس معاملہ کو ایک اور مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآن میں صحابۂ کرام کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہو گیا (رضی اللہ عنہم) مگر کسی بھی صحابی کے بارے میں یہ ثابت نہیں کہ اس نے اپنی زبان سے یہ کہا ہو کہ ہم وہ لوگ ہیں جن سے اللہ راضی ہے۔ یہ اللہ کے فیصلہ کا معاملہ ہے نہ کہ صحابہ کے اپنے دعویٰ کا معاملہ۔ اسی طرح خیر امت بھی خدا کا ایک فیصلہ ہے، اس کو اپنی طرف سے بطور دعویٰ بیان کرنا درست نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page