ایک اور عمل
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۷
ایک اور عمل
علیہ بن زید ایک غریب صحابی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو لوگوں سے تیاری کے لئے کہا۔ علیہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ میرے لئے سواری کا انتظام کر دیں تاکہ میں بھی اس مہم میں شرکت کر سکوں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے پاس مزید سواری یا مال نہیں ہے جس سے میں تمہاری مدد کروں۔ علیہ بن زید اپنے گھر کی طرف لوٹے تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ان کا دل اس احساس سے بے قرار تھا کہ کاش میرے پاس سواری اور زاد راہ ہوتا تو میں بھی اس اسلامی عمل میں شرکت کرتا۔ اس دن وہ ساری رات نماز پڑھتے رہے اور روتے رہے۔ اس وقت ان کی زبان سے یہ دعا نکلی : اے اللہ تو نے جہاد کا حکم دیا ہے۔ مگر تو نے مجھے وہ سامان نہیں دیا جس کے ذریعہ میں جہاد میں شرکت کر سکوں۔ میں صدقہ جہاد پر قادر نہیں۔ اب جس مسلمان نے بھی مال یا جسم یا آبرو کے مقابلہ میں مجھ پر کوئی زیادتی کی ہو تو میں اس کو اسی مسلمان کے اوپر صدقہ کرتا ہوں۔ ایک اور حدیث (التفسیر المظہری ۳/ ۲۸۱) سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ صحابی کے جذبہ کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور بقیہ صحابہ کے ساتھ شریک جہاد نہ ہونے کے باوجود وہ جہاد کے انعام کے مستحق قرار پائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مومن اگر معذوری کے سبب سے عملاً کسی کار خیر میں شریک نہ ہو سکے تو اس کے بعد بھی اس کے لیے شرکت کا موقع ہے اور وہ یہ کہ اپنی روح کی تڑپ اور اپنے دل کی کیفیات کے ساتھ وہ اس میں شریک ہو جائے، وہ دعاؤں اور آنسوؤں کے ساتھ ان کا ہم سفر بن جائے جن کا ہم سفر وہ سواریوں کی صورت میں نہ ہو سکا تھا۔ جو صاحب ایمان ایسا کر سکے اس کے لیے خدا کے یہاں وہی ثواب ہے جو عملی طور پر شریک ہونے والوں کا ہے۔ خارجی عمل جس طرح اہم ہے اسی طرح داخلی عمل بھی اہم ہے۔ بلکہ بعض اوقات داخلی عمل خارجی عمل سے بھی زیادہ عظیم ہو جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues