يك طرفه سلوک
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۹
يك طرفه سلوک
قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اجتماعی معاملات میں یکطرفہ حسن سلوک کا انداز اختیار کیا جائے ۔ اگر کوئی شخص اشتعال انگیز باتیں کرے ۔ یا دہ برائی کے ساتھ پیش آئے تب بھی اس کے مقابلہ میں منفی ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے، بلکہ برائی کے جواب میں بھلائی کی جائے۔ برائی کے جواب میں بُرائی کرنے سے پر ہیز کیا جائے۔
اِس قسم کا اعلیٰ سلوک اپنے اندر تسخیری طاقت رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس قسم کا سلوک کرے تو قرآن کے الفاظ میں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی دوست قرابت والا (حم السجده 34) اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ دو فر دیا گروہ کے درمیان اختلاف پیدا ہو جاتا ہے، ایک کی اشتعال انگیز بات دوسرے کو بھڑکا دیتی ہے۔ ایک کی طرف سے برائی کا سلوک دوسرے کے اندر انتقام کا جذ بہ پیدا کر دیتا ہے۔ وقتی طور پر ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے دونوں ایک دوسرے کے حریف اور دشمن ہیں۔
اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر دو مختلف اور متضاد صلاحیتیں ہیں۔ ایک وہ جس کو قرآن میں ’نفسِ امارہ‘ کہا گیا ہے۔ اور دوسرا وہ جس کے لیے قرآن میں ’نفسِ لوّامہ‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ دونوں صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ البتہ وہ اس وقت جاگ پڑتی ہیں جب کہ انھیں باہر سے کوئی ٹھیس پہنچائی جائے۔
آپ کا اختلاف کسی سے ہو جائے یا کسی وجہ سے ایک شخص آپ کو اپنا دشمن دکھائی دینے لگے تو ظاہر حالات کی بنیاد پر فیصلہ نہ کیجئے۔ ایسا جب بھی ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی وجہ سے اس آدمی کا نفسِ امارہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اب اگر آپ اس کے جواب میں نرمی کا انداز اختیار کر کے اس کے بھڑکنے ہوئے نفسِ امارہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں۔ اور اس کے دشمنانہ سلوک سے بُرا اثر نہ لیتے ہوئے اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں تو اس کے نتیجہ میں اس کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ اگر آپ ایسا کریں تو وہی معجزہ پیش آئے گا جو قرآن میں مذکور ہے۔ یعنی وہ شخص جو آپ کا دشمن دکھائی دے رہا تھا وہ آپ کا دوست بن جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues