Al-Risala · June 2001 · page 10

عالی ظرفی

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۱۰

عالی ظرفی

دور عباسی کا ایک واقعہ تاریخ کی بعض کتابوں میں ان الفاظ میں آیا ہے : خطب الخليفة العباسى المنصور يوماً فى جماعة من الاعراب، فقال :

ايها الناس ينبغى ان تحمدوا الله على ما وهبكم فى، فانى منذ وليتكم ابغض الله عنكم الطاعون الذى كان يفتك بكم. فقال له احد المستمعين ان الله اكرم من ان يجمع علينا فى وقت واحد الطاعون والمنصور۔

(خلیفہ منصور عباسی نے ایک روز شام کے اعراب کی ایک جماعت کے سامنے تقریر کی۔ اس نے کہا کہ اے لوگو، تم کو چاہئے کہ تم میرے جیسے خلیفہ کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرو۔ کیوں کہ جب سے میں خلیفہ ہوا ہوں اللہ نے تم سے طاعون کو دور کر دیا ہے۔ اس کے بعد سننے والوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ وہ ایک وقت میں ہمارے اوپر طاعون اور منصور دونوں کو جمع کردے۔ )

اعرابی کا یہ جملہ سخت توہین آمیز تھا۔ عام طریقہ کے مطابق چاہئے تھا کہ خلیفہ منصور عباسی اس کو سن کر بھڑک اٹھے اور مذکورہ شخص کے قتل کا حکم دے دے۔ مگر خلیفہ منصور نہایت بلند حوصلہ آدمی تھا۔ اس نے اس کی قدر کی اور حکم دیا کہ اس شخص کو خزانہ خاص سے انعام دیا جائے اور اس کو عزت کے ساتھ اس کے گھر پہنچایا جائے۔

پست اور کمینہ قسم کے لوگ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کہنے والے نے ان کی موافقت میں بات کہی ہے یا ان کی مخالفت میں۔ وہ موافق کو نوازتے ہیں اور مخالف کے دشمن بن جاتے ہیں۔ مگر بلند حوصلہ اور عالی ظرف لوگ موافقت اور مخالفت سے اوپر اٹھ کر سوچتے ہیں۔ وہ اصل بات کو دیکھتے ہیں نہ یہ کہ جو کچھ کہا گیا ہے وہ ان کے موافق ہے یا ان کے خلاف۔ اسی کا نام عالی ظرفی ہے۔ یہ عالی ظرفی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اعلیٰ صلاحیت کے افراد کو اپنے گرد اکٹھا کر سکے۔ اس کے برعکس جس آدمی کے اندر عالی ظرفی کی یہ صفت نہ پائی جائے۔ اس کو اس کی قیمت اس شکل میں دینی پڑے گی کہ بے صلاحیت افراد کے سوا اس کو کسی اور کی ہمنشینی حاصل نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page