پیغمبرِ اعظم
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۱۱
پیغمبرِ اعظم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے ابتدائی سال تک مکہ میں تھے۔ یہاں کچھ لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ لیکن وہاں کی اکثریت آپ کی مخالف بنی رہی۔ یہ لوگ آپ کے خلاف مسلسل سب و شتم کرتے تھے۔ مگر آپ نے ہمیشہ اس کے مقابلہ میں مثبت رد عمل کا ثبوت دیا۔ مکہ کی ایک شاعر خاتون نے آپ کے خلاف نظم لکھی جس میں آپ کو مذمم (مذمت کیا ہوا) کہا گیا تھا۔ آپ نے اس کا جو جواب دیا اس کا مطلب یہ تھا کہ اس عورت کو دیکھو یہ مجھ کو مذمم کہہ رہی ہے اور خدا نے تاریخ میں میرا نام محمد لکھ دیا ہے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن کے مطابق، خلقِ عظیم پر تھے۔ یعنی آپ اعلیٰ اخلاقی کردار کے حامل تھے۔ آپ ہمیشہ لوگوں کے ساتھ بر تر سلوک والا معاملہ کرتے تھے۔ آپ تاریخ کے عظیم ترین انسان تھے اس لئے آپ کا کردار بھی عظیم ترین کردار تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کو سخت ترین مخالفت کا سامنا پیش آیا آپ کی زندگی میں بھی مکہ اور مدینہ کے لوگوں نے آپ کے خلاف اشتعال انگیز باتیں کیں۔ اور بعد کے زمانہ میں بھی آپ کو بدنام کرنے کے لئے ہر قسم کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ خاص طور پر صلیبی جنگوں کے بعد بہت بڑے پیمانہ پر مخالفانہ مہم چلائی گئی مگر آپ کے خلاف بولے ہوئے تمام الفاظ فضا میں گم ہو گئے۔ ہر آنے والے دور میں آپ کی شخصیت مزید اضافہ کے ساتھ نمایاں ہوتی رہی۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اس سے بہت زیادہ بلند ہے کہ کسی انسان کے قلم کی سیاہی اس کو داغدار کر سکے۔ ساری تاریخ، تمام انسانی علوم، حتیٰ کہ پوری کائنات ایسی ہر کوشش کی تردید ہے۔ جس ہستی کے ظہور نے خود انسانی تاریخ کو بدل ڈالا ہو، اس کے فضل و کمال پر پردہ ڈالنا کسی بھی شخص یا گروہ کے لئے ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues