Al-Risala · January 2001 · page 29

خصوصی شمارہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۹

ہم اسلام تو قبول کر لیں گے لیکن ہم نہ زکوٰۃ دیں گے اور نہ جہاد کریں گے۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ عام لوگ اس قسم کے اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ نے حال سے اوپر اٹھ کر مستقبل کو دیکھا۔ آپ نے اپنی بصیرت کے تحت یہ سمجھا کہ یہ لوگ جب اسلام میں داخل ہو کر مسلم معاشرہ کا جزء بن جائیں گے تو وہ اپنے آپ سب کچھ کرنے لگیں گے۔ چنانچہ آپ نے ان کی شرطوں کو مانتے ہوئے انھیں اسلام میں داخل کر لیا۔ لوگوں کے اشکال کو رفع کرنے کے لئے آپ نے فرمایا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد وہ زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ (سیتصدقون و یجاهدون اذا اسلموا) سیرت ابن کثیر ۵۶/۴۔

پیغمبر اسلام ﷺ کے اس اسوہ سے ایک عظیم حکمت معلوم ہوتی ہے۔ یہ حکمت ایک لفظ میں مستقبل بینی ہے۔ انسان کوئی پتھر نہیں ہے جو تاثر کو قبول نہ کرے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسان کے حال پر اس کے مستقبل کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ آدمی سے معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہئے۔ بوقت معاملہ فوری تبدیلی پر اصرار سے ضد پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اپنے آپ ایسا ہو گا کہ آدمی مستقبل میں عین وہی بن جائے گا جیسا کہ حال میں ہم دیکھنا چاہتے تھے۔ زیر طبع کتاب مطالعہ سیرت کا ایک باب (صفحات ۲۰۸)

خصوصی شمارہ

جلد ہی الرسالہ کا ایک خصوصی شمارہ 'ایک ہفتہ بہار میں' شائع ہوگا۔ یہ پورا شمارہ بہار کے سفر نامہ پر مشتمل ہوگا۔ جو لوگ اس شمارہ کی مزید کاپی حاصل کرنا چاہتے ہوں وہ فورا اپنی فرمائش سے مطلع فرمائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page