Al-Risala · January 2001 · page 30

خصوصی شمارہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۰

سوال

باتیں دو طرح کی ہوتی ہیں یا مسائل ، نظریات دو طرح کے ہوتے ہیں: (1) منصوصات (۲) مستنبطات اول الذکر میں کسی کو اختلاف کی قطعا گنجائش نہیں ہے۔ البتہ مستنبطات، یا مستخرجات میں دائرہ اختلاف وسیع سے وسیع تر ہوتا ہے۔

سلف صالحین، ائمہ مجتہدین، محد ثین تقریباً سبھوں نے اپنے فکر پر دلائل کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اپنے مخالف کے بارے میں اس طرح اعلان کیا ہے: نحن علی الصواب مع احتمال الخطاء ، انتم علی الخطأ مع احتمال الصواب۔ اور یہ کہ غیر منصوصات پر اصرار کی ایک جانب غیر شرعی چیز ہونے پر فقہاء امت کا تقریباً اتفاق ہے۔ ہر صاحب فکر جسے اللہ نے فکر مستقل سے نوازا ہو اسے یہ اعلان کر دینا چاہئے کہ انا علی الصواب مع احتمال الخطأ، انت على الخطأ مع احتمال الصواب۔ اختیار حق اور احقاق کے لئے راستہ صاف ہے۔ (سید احمد اللہ بختیاری، حیدر آباد) جواب راقم الحروف کی تحریریں زیادہ تر منصوصات سے متعلق ہوتی ہیں نہ کہ مستنبطات سے متعلق۔ ایسی حالت میں ان تحریروں پر مذکورہ قسم کے احتمال کا اصول چسپاں نہیں ہو تا۔ مثلاً میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمان کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلموں کی حیثیت مدعو کی۔ یہ یقینی طور پر نص کا مسئلہ ہے نہ کہ استنباط کا مسئلہ۔

موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم رہنما اور مسلم اخبارات ملی مسائل کو لے کر بار بار ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہو۔ اس کے مقابلہ میں راقم الحروف کا کہنا یہ ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ اس نسبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے معاملات میں غیر مسلموں سے نزاع کو روائڈ کریں تاکہ وہ معتدل ماحول قائم ہو جس میں دعوت کا پر امن عمل جاری رہ سکے۔ یہ نظریہ صراحۃ نص قرآنی پر مبنی ہے ۔ مثلاً فلا يناز عنك في الامر و ادع الى ربك (انج |۶۷)۔ ایسی حالت میں اس مسئلہ کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page