Al-Risala · June 2001 · page 16

قناعت کامیابی کا راز

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۱۶

مختلف باتیں کہی گئی ہیں ان میں سے ایک کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

"نواب زادہ لیاقت علی خان" کو حقائق اور ملک کے جغرافیہ سے بھر پور واقفیت نہ تھی۔ جس کے وہ پہلے وزیر اعظم بن چکے تھے.......... بعد میں کشمیر پر حملہ کے دوران جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاہور آیا۔ ایک ڈنر، جس میں لیاقت، گورنر مودی اور پنجاب کے چار وزیر موجود تھے، لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سردار پٹیل کا پیغام پہنچایا۔ پٹیل جو ہندوستان کی ایک طاقتور شخصیت تھا۔ اس کا پیغام تھا کہ اس اصول کی پابندی کی جائے جو کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین ریاستوں کے مستقبل کے بارے میں طے پایا تھا وہ یہ کہ ریاست اپنے باشندوں کی اکثریت اور سرحدوں کے ساتھ ملاپ کی بنا پر پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں گی۔ پٹیل نے کہا کہ پاکستان کشمیر کو لے لے اور حیدر آباد دکن کا مطالبہ چھوڑ دے جہاں پر ہندو آبادی کی اکثریت تھی اور جس کا پاکستان کے ساتھ زمینی یا سمندری ذریعہ سے کوئی اتصال بھی نہ تھا۔ یہ پیغام دینے کے بعد ماؤنٹ بیٹن گورنمنٹ ہاؤس میں آرام کرنے چلا گیا۔

میں کشمیر آپریشن کا مکمل نگراں تھا۔ میں نے لیاقت علی خاں کے پاس جا کر انہیں تجویز دی کہ ہندوستان کی فوج جو کشمیر میں داخل ہو چکی ہے ہم قبائلیوں کی مدد سے اس کو باہر نکالنے اور کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ یہاں تک کہ ہماری اس وقت کی فوج بھی اس کامیابی کے حصول میں شاید مددگار ثابت نہ ہو سکے گی۔ لہذا ہمیں سردار پٹیل کی پیشکش کو ٹھکرانا نہیں چاہئے۔ نواب زادہ نے میری جانب مڑ کر کہا"سردار صاحب، کیا میں پاگل ہو گیا ہوں کہ میں کشمیر کے پہاڑوں اور ٹیلوں کے بدلے ریاست حیدر آباد دکن کو چھوڑ دوں جو پنجاب سے بھی بڑی ریاست ہے"

پرائم منسٹر کے اس رد عمل کو دیکھ کر میں تو سن ہو گیا کہ ہمارا وزیر اعظم ملکی جغرافیہ سے اتنا بے خبر تھا۔ اس کی ذہانت کا یہ معیار کہ وہ حیدر آباد دکن کو کشمیر پر ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تو احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات تھی۔ حیدر آباد کا حصول ایک سراب تھا جب کہ کشمیر اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page