Al-Risala · June 2001 · page 17

قناعت کامیابی کا راز

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۱۷

آپ مل رہا تھا۔ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ اہمیت سے وہ قطعی واقف نہیں تھے۔ چنانچہ احتجاج کے طور پر میں نے کشمیر آپریشن کی نگرانی سے استعفیٰ دے دیا (صفحہ ۲۳۱ ۲۳۲) سردار شوکت حیات خاں کا یہ بیان اس درد ناک حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈر کس طرح مذکورہ مثل کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ ممکن اور نا ممکن کے فرق کو سمجھ نہ سکے۔ وہ نہ ملنے والی چیز کو پانے کے لئے دوڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملنے والی چیز بھی ان سے کھوئی گئی اور نہ ملنے والی چیز تو سرے سے ملنے والی ہی نہ تھی۔

۲۔ اب اس نوعیت کی ایک اور مثال لیجئے۔ اس مثال کا تعلق ۱۹۴۷ء سے پہلے کے دور سے ہے جب کہ بر صغیر ہند میں انگریزوں کا سیاسی اقتدار قائم تھا۔ اس مثال کو اردو ہفت روزہ الجمعیۃ سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس امروہہ (۳۔ ۵ مئی ۱۹۳۰ء) سے کچھ روز قبل وائسرائے ہند کی کونسل کے ایک ذمہ دار ممبر سر میاں فضل حسین مرحوم نے سبحان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی کو بلا کر یہ پیش کش کی کہ آپ جمعیۃ علماء کے اجلاس امروہہ میں کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل کی تجویز پاس نہ ہونے دیں۔ میں حکومت برطانیہ سے مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے ملحقہ جائداد بمعہ اراضی جمعیۃ علماء ہند کے علمی کاموں کے لئے دلوا دوں گا۔ حضرت مولانا نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا ” میاں صاحب ! تمام علماء کرام وزعماء عظام مجھے بے وقوف نہیں بنائیں گے کہ ہم پورے ملک کو حاصل کرنے کی تجویز پاس کر رہے ہیں اور تم صرف ایک مقبرہ وہ بھی مسلمانوں کی وقف ملکیت پر فیصلہ کر رہے ہو۔ مولانا کے جواب سے میاں صاحب موصوف کو بہت مایوسی ہوئی۔ یہ واقعہ حضرت مولانا نے راقم الحروف سے خود بیان فرمایا تھا۔ (جمعیۃ علماء ہند کا پچاس سالہ عہد، از شیخ عبد الحق پراچہ دہلوی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مطبوعہ الجمعیۃ ویکلی، دہلی، ۲ جنوری ۱۹۷۰ء، صفحہ ۸)

۱۹۳۰ء کے اس واقعہ کو اب ۷۵ سال کے بعد کے حالات کی روشنی میں دیکھئے تو معلوم

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page