Al-Risala · June 2001 · page 18

قناعت کامیابی کا راز

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۱۸

ہو گا کہ اس معاملہ میں وہی صورت پیش آئی جس کا ذکر مذکورہ عوامی مثل میں کیا گیا ہے، پچھتر سال پہلے کے رہنماؤں کو ایک نہایت قیمتی موقع کسی کوشش کے بغیر مل رہا تھا مگر وہ اس قیمتی موقع سے صرف اس لئے فائدہ نہ اٹھا سکے کہ ان کے ذہن میں ایک بہت بڑی چیز بسی ہوئی تھی۔ اگرچہ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے وہ چیز انہیں ملنے والی ہی نہ تھی۔

انگریزوں کی مذکورہ پیش کش اپنے امکانات کے اعتبار سے وہی اہمیت رکھتی تھی جس کی پیش کش مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانہ میں انگریز تاجر کو کی گئی۔ اور اس نے اس کو فورا قبول کر لیا۔ پچھتر سال پہلے کے مسلم رہنما اگر انگریز کی مذکورہ پیش کش کو قبول کر لیتے اور اس کو علمی اور تعلیمی اور دعوتی مرکز بنا دیتے تو اس کے نتائج اتنے دور رس نکلتے کہ شاید تاریخ کا نقشہ ہی کچھ دوسرا ہوتا۔

اوپر جو دو مثالیں پیش کی گئیں یہی موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مشہور رہنماؤں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لئے کام کے عظیم مواقع موجود تھے۔ مگر تقریباً ہر ایک کا یہ حال ہوا کہ وہ ناممکن کو نشانہ بنا کر اس کی طرف دوڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن کو بھی حاصل نہ کر سکا اور ناممکن تو حاصل ہونے والا ہی نہ تھا۔

مثلاً سید جمال الدین افغانی کو ترکی کی عثمانی سلطنت نے کام کے عظیم مواقع دیے مگر جمال الدین افغانی خود عثمانی سلطنت کی جڑ اکھاڑنے پر تل گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ترکی کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، مصر کے سید قطب کو وزارت تعلیم بہت چھوٹی چیز لگی۔ وہ خود ناصر کے سیاسی اقتدار کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہونا پڑا۔

یہی معاملہ پاکستان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ پیش آیا۔ وہاں کے سابق حکمراں صدر محمد ایوب خاں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے ساتھیوں کو یہ پیش کش کی کہ وہ حکومت کے مکمل تعاون سے پاکستان میں بڑے پیمانہ پر ایک نیشنل یونیورسٹی بنائیں اور اس کے ذریعہ وہ نئی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page