قرآن وحدیث کی روشنی میں
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۲۷
کوشش صرف کی جائے۔ سسٹم پر عمل کرنا درخت کی شاخوں پر عمل کرنا ہے۔ اور فرد یا ذہن پر عمل کرنا درخت کی جڑوں پر عمل کرنا۔ درخت کی شاخوں پر عمل خدا کی اس دنیا میں کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس اگر درخت کی جڑوں پر عمل کیا جائے تو نتیجہ اتنا ہی یقینی ہو جاتا ہے جتنا شام کے بعد اگلی صبح کو سورج کا نکلنا۔
اسلامی نقطہ نظر سے اصل کام یہ ہے کہ فرد کو بدلا جائے۔ فرد کی سوچ میں تبدیلی لائی جائے۔ فرد کی پسند نا پسند کے معیار کو درست کیا جائے۔ فرد کے اندر غیر حق پسندی کے مزاج کو ختم کرکے اس کو حق پسند بنایا جائے۔ فرد بدلے گا تو انسان بدلے گا، انسان بدلے گا تو سماج بدلے گا۔ اور جب سماج بدلے گا تو اس کے بعد سسٹم اپنے آپ بدل جائے گا۔
مبنی بر نظام جدوجہد کے مقابلہ میں مبنی بر انسان جدوجہد کی اہمیت یہ ہے کہ ہر چیز آخر کار انسان کے ہاتھ میں ہے۔ باطل نظام کو بدلنے کے نام سے پچھلی صدیوں میں جن چیزوں کے خلاف تحریکیں چلائی گئیں ان سب کو بنانے اور چلانے والا براہ راست یا بالواسطہ طور پر انسان ہی تھا۔ کوئی بھی نظام اپنے آپ وجود میں نہیں آتا۔ بلکہ کچھ انسان اس کو وجود میں لاتے ہیں۔ اس لئے نظام کو بدلنے کا کام انسان کو بدلنے سے شروع ہوگا، جس طرح درخت کو وجود میں لانے کا عمل بیج پر عمل سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ اس دنیا میں نہ ممکن ہے اور نہ نتیجہ خیز۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں
قرآن اور حدیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک انسانی اصلاح کے معاملہ میں اصل اہمیت قلب کی ہے۔ اسلامی جدوجہد کا سارا نشانہ یہ ہے کہ انسان کے قلب کو بدلا جائے۔ قلب ہی کی درستگی پر کسی انسان کو جنت کا داخلہ ملتا ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: إلا من أتى الله بقلب سليم (الشعراء (۸۹) یعنی جنت میں داخلہ صرف اُس شخص کو ملے گا جو قلب سلیم کے ساتھ وہاں پہنچے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues